لگتا ہے کہ ان جناب کی سرینگر سے کوئی ناراضگی ہے …….کیوں ہے ‘ یہ تو ہم نہیں جانتے ہیں ……. بالکل بھی نہیں جانتے ہیں ‘ لیکن …….لیکن اگر ہم کوئی بات جانتے ہیں تو یہ ایک بات جانتے ہیں کہ چلہ کلاں کی سرینگر سے یقینا کوئی ناراضگی ہے ۔اگر ایسا نہیں ہو تا تو ……. تو جہاں پوری وادی برف کی سفید چادر میں لپٹ گئی ‘ کچھ حصوں میں تو اتنی برفباری ہو ئی کہ آنکھوں پر یقین نہیں آرہا ہے …….اور اس لئے نہیں آرہا ہے کہ ہم اب اتنی بھاری برفباری کو بھول گئے تھے ‘ وہاں اپنے سرینگر میں کوئی برفباری نہیں ہو ئی ……. بالکل بھی نہیںہو ئی ……. سرینگر کے کچھ ایک علاقوں میں ہو ئی ‘ لیکن مجموعی طور پر اپنا شہر خستہ اس سے محروم رہا ۔ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے …….بالکل بھی نہیں ہے جو سرینگر سے ناراض رہتے ہیں ……. خواہ مخواہ ناراض رہتے ہیں ……. لیکن اب ان میں ‘ اب اس لمبی فہرست میں چلہ کلاں کا نام بھی جڑ گیا ہے …….ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا ‘ لیکن صاحب ایسا ہوا …….کیوں ہوا ‘اس بات کا جواب تو چلہ کلاں کے پاس ہی ہو گا …….لیکن ہمیں یقین ہے کہ سرینگر نے ایسا ویسا کچھ بھی نہیں کیا ……. بالکل بھی نہیں کیا جس سے چلہ کلاں ناراض ہو ……. لیکن وہ ناراض ہو گیا ۔شاید اس کی ناراضگی کی ایک وجہ یا واحد وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اپنے شہر میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا جاننا اور ماننا ہے کہ صاحب برفباری کی ضرورت تو بالائی حصوں ‘ گاؤں اور دیہات کو ہو تی ہے اور…….اور برفباری اُدھر ہی اچھی بھی لگتی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ چلہ کلاں کو کہیں سے اس بات کی بھنک لگ گئی ہو کہ ……. کہ آخر دیواروں کے بھی تو کان ہو تے ہیں …….کسی نے چغلی کھائی ہو گی ‘ کسی نے مخبری کی ہو گی اور…….اور دیکھئے کہ جہاں پورا کشمیر اس وقت خوشیاں منا رہاہے…….بھاری برفباری کے دل فریب نظاروں سے پھولے نہیں سما رہا ہے …….اس برفباری کا استقبال کررہا ہے وہیں اپنا شہر خستہ اور اس کے لوگ اس سے محروم ہیں …….لیکن صاحب ہمیں چلہ کلاں سے کوئی شکوہ ہے اور نہ شکایت ہے …….الٹا ہم تو اس کے مشکور و ممنون ہیں کہ …… کہ تاخیر‘ تھوڑی تاخیر سے ہی سہی لیکن وادی میں برفباری تو ہوئی …….وہ برفباری جس کی ہمیں ضرورت تھی …….بالائی حصوں کو‘ گاؤں اور دیہات کو بھی ضرورت تھی ……. اور ہاں سرینگر کو بھی ضرورت تھی‘سرینگر کو بھی اس کی ‘برفباری کی ضرورت ہے ۔ ہے نا؟




