سرینگر: جون۲۰۲۲کے بعد سے جموں و کشمیر میں پیش آنے والے۲۰ہزار سے زائد سڑک حادثات میں تقریباً۳۷۰۰افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ۲۹ ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بات جمعرات کو یہاں ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتائی۔
عہدیدار کے مطابق ان حادثات اور اموات کی بڑی تعداد قومی شاہراہوں پر پیش آئی، بالخصوص جموں، کٹھوعہ، ادھم پور اور راجوری اضلاع میں۔
یہ تفصیلات چیف سیکریٹری اٹل ڈلو کی صدارت میں منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران پیش کی گئیں، جس میں سپریم کورٹ کی جانب سے تجویز کردہ روڈ سیفٹی اقدامات کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔
چیف سیکریٹری نے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد کی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ طلب کی اور حادثات کے شکار اور حساس سڑک حصوں کی نشاندہی کے لیے جی آئی ایس پر مبنی ڈیٹا کے وسیع استعمال پر زور دیا۔
ڈلو نے کہا’’ڈیٹا پر مبنی ایسی نشاندہی سے خاص طور پر پہاڑی اضلاع میں سڑک حادثات میں نمایاں کمی لانے کے لیے ہدفی تکنیکی اور جسمانی مداخلت ممکن ہو سکے گی‘‘۔
جموں و کشمیر کے ٹرانسپورٹ محکمہ کے سیکریٹری، اونی لاواسا نے چیف سیکریٹری کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جون۲۰۲۲میں آئی ریڈ پورٹل کے فعال ہونے کے بعد سے اب تک یونین ٹیریٹری میں مجموعی طور پر۲۰ہزار۱۳۵سڑک حادثات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں۳۲ہزار۸۱۹؍افراد ملوث تھے۔ ان حادثات کے نتیجے میں۳ہزار۶۸۸؍افراد جاں بحق اور۲۹ہزار۱۳۱؍افراد شدید یا معمولی زخمی ہوئے۔
ڈیٹا کے تجزیے سے یہ بھی سامنے آیا کہ زیادہ تر حادثات سہ پہر۳بجے سے رات۹بجے کے درمیان پیش آئے، جبکہ۲۰۲۵کے دوران رپورٹ ہونے والے تقریباً۵۰فیصد حادثات کی وجہ تیز رفتاری اور لاپرواہ ڈرائیونگ تھی، لاواسا نے کہا۔
ٹرانسپورٹ محکمہ نے نفاذ سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے، جن کے مطابق۲۰۲۴میں۴۰ہزار۱۹۷ چالان اور۲۰۲۵میں۵۲ہزار۵۴۳چالان جاری کیے گئے، جن کے نتیجے میں بالترتیب۱۰کروڑ۱۵لاکھ روپے اور۱۱کروڑ۹۷لاکھ روپے کے جرمانے وصول کیے گئے۔
اہم خلاف ورزیوں میں ہیلمٹ کے بغیر سواری، سیٹ بیلٹ کے بغیر ڈرائیونگ، گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون کا استعمال، تیز رفتاری اور ریڈ لائٹ توڑنا شامل ہیں۔ صرف۲۰۲۵میں۱۵۲۸گاڑیاں ضبط کی گئیں،۱۶۴۱ ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے گئے،۱۰ہزار۴۳۹گاڑیاں بلیک لسٹ کی گئیں،۱۱۹۲رجسٹریشن سرٹیفکیٹس منسوخ کیے گئے اور۳۰۰ روٹ پرمٹس رد کیے گئے، ٹرانسپورٹ سیکریٹری نے بتایا۔
انسپکٹر جنرل پولیس (ٹریفک) ایم سلیمان نے میٹنگ کو جموں اور سرینگر میں فعال نگرانی کیمروں اور ٹریفک سگنل نظام کے بارے میں آگاہ کیا۔
ایک سرکاری ترجمان کے مطابق چیف سیکریٹری نے ٹریفک ڈیٹا کو استعمال میں لا کر ہدفی حفاظتی اقدامات اور انجینئرنگ اصلاحات کی ہدایت دی۔ انہوں نے عادی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت تعزیری کارروائی کو یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ مؤثر ڈیٹررنس پیدا ہو سکے۔
میٹنگ کے دوران سڑک تعمیراتی ایجنسیوں، جن میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا، پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ اور بارڈر روڈز آرگنائزیشن شامل ہیں، سے نشاندہی شدہ بلیک اسپاٹس کو ختم کرنے کی پیش رفت پر بریفنگ طلب کی گئی۔
چیف سیکریٹری نے اسکول بسوں میں حفاظتی سائن بورڈز اور رفتار محدود کرنے والے آلات کی تنصیب کا بھی جائزہ لیا، ترجمان نے بتایا۔










