سرینگر: جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ ‘عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی (ایس ایم وی ڈی) میڈیکل کالج کے منتخب ایم بی بی ایس امیدواروں کے کالج الائٹمنٹ کا مسئلہ حل کر دیا گیا ہے ۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس ایگزامینیشنز (بی او پی ای ای) کی طرف سے اب کونسلنگ کا شیڈول جاری کرنے کے ساتھ، طلباءاپنی پڑھائی کو آگے بڑھاسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ بی او پی ای ای نے ان۵۰؍ ایم بی بی ایس امیدواروں کے لئے فزیکل کونسلنگ کے انعقاد کا اعلان کیا ہے ، جن کی نشستیں رواں ماہ کے اوئل میں شری ماتا ویشنو دیوی (ایس ایم وی ڈی) میڈیکل کالج کی ڈی ریکگنیشن کے باعث ختم ہوگئی تھیں۔
وزیر اعلیٰ کے ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ میں کہا گیا’’ حکومت نے ایس ایم وی ڈی کالج کے منتخب ایم بی بی ایس امیدواروں کے لیے کالج الائٹمنٹ کا مسئلہ حل کر دیا ہے ‘‘۔
پوسٹ میں مزید کہا گیا’’بی او پی ای ای کی طرف سے اب کاؤنسلنگ کا شیڈول جاری کرنے کے ساتھ، طلباءاپنی پڑھائی کو آگے بڑھا سکتے ہیں‘‘۔اس پوسٹ کے ساتھ بورڈ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کو بھی اپ لوڈ کیا گیا ہے ۔
جموں و کشمیر بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس ایگزیمنیشنز نے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کٹرہ سے منتخب امیدواروں کی رہائش کے لئے۵۰ایم بی بی ایس سپر نیومری سیٹیں مختلف گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں الاٹ کرنے کے لیے فزیکل کاؤنسلنگ کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے ۔
بورڈ کے مطابق کاؤنسلنگ۲۴جنوری۲۰۲۶ بروز ہفتہ منعقد ہوگی، جبکہ امیدواروں کو صبح۱۰بجے سے۱۱بجے تک جے کے بی او پی ای کے جموں یا سری نگر دفاتر میں اپنی حاضری یقینی بنانا ہوگی۔
یہ فیصلہ حال ہی میں محکمہ صحت و میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ مراسلے اور نیشنل میڈیکل کمیشن کے میڈیکل اسسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ کے احکامات کے بعد لیا گیا ہے ۔۵۰سپر نیومری سیٹیں جموں و کشمیر کے سات نئے قائم شدہ میڈیکل کالجوں میں تقسیم کی گئی ہیں جن میں جی ایم سی اننت ناگ کو آٹھ جبکہ بارہمولہ، ڈوڈہ، ہندواڑہ، کٹھوعہ، راجوری اور ادھم پور کو سات سات سیٹیں فراہم کی گئی ہیں۔ ان سیٹوں کا مقصد اُن امیدواروں کو ایڈجسٹ کرنا ہے جنہیں۲۰۲۵میں مختلف مراحل کے دوران کٹرہ میں عارضی طور پر ایم بی بی ایس سیٹیں الاٹ کی گئی تھیں اور جن کے نام بورڈ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں شامل ہیں۔
بورڈ نے واضح کیا ہے کہ ان اضافی سیٹوں کی الاٹمنٹ نیٹ یو جی میرٹ اور امیدواروں کی جانب سے ظاہر کردہ کالج ترجیحات کے مطابق ہوگی۔ کاؤسلنگ کے دوران امیدواروں کو اپنی تمام اصل دستاویزات بشمول ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، مارکس کارڈ اور فیس رسید ساتھ لانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ تصدیق کے مرحلے میں کسی قسم کی دقت پیش نہ آئے ۔
اس کے علاوہ وہ امیدوار جو ذاتی طور پر کاؤنسلنگ میں شریک نہیں ہو سکتے ، اپنے قریبی رشتہ دار کو مقررہ اجازت نامے اور شناختی دستاویزات کے ساتھ اپنی نمائندگی کے لئے بھیج سکتے ہیں۔
جے کے بی او پی ای نے امیدواروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وقت پر رپورٹ کریں تاکہ کاغذی کارروائی اور اندراج کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے ۔ بورڈ کے مطابق اس کونسلنگ کا مقصد تمام اہل امیدواروں کو میرٹ کی بنیاد پر منصفانہ موقع فراہم کرنا اور انہیں مناسب میڈیکل کالجوں میں ایڈجسٹ کرنا ہے ۔
اس سے پہلے ۲۱جنوری کو جموں و کشمیر کے محکمہ صحت و طبی تعلیم کو بھیجی گئی ایک تحریری اطلاع میں بوپی نے کہا تھا کہ وہ۲۰۲۶۔۲۰۲۵سیشن کے لیے تازہ کاؤنسلنگ نہیں کرا سکتا، اور حکومت سے کہا تھا کہ وہ طلبہ کو دیگر میڈیکل کالجوں میں سپر نیومریری نشستوں پر ’اپنی سطح پر‘داخلہ دے۔
اس مراسلے میں کہا گیا تھا’’سپر نیومریری نشستوں کی تخلیق اور الاٹمنٹ بوپی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی‘‘۔تاہم، یہ موقف چند گھنٹوں کے اندر بدل گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں مراسلات کی تاریخ۲۱جنوری ہی درج ہے۔
جن سات سرکاری میڈیکل کالجوں کو سپر نیومریری نشستیں الاٹ کی گئی ہیں، وہ گزشتہ سات برسوں کے دوران قائم کیے گئے ہیں۔ حکومت نے جی ایم سی سرینگر، جی ایم سی جموں یا ایس کے آئی ایم ایس میڈیکل کالج جیسے ممتاز اداروں میں کوئی سپر نیومریری نشست الاٹ نہیں کی ہے۔










