سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ حکومت قدرتی حسن سے مالا مال اس یونین ٹیریٹری کو فلم سازی کے لیے ایک پرکشش منزل بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو فلم سازی کے لیے موزوں بنانے کے لیے مناسب انفراسٹرکچر کی فراہمی ناگزیر ہے، جس کے لیے ممبئی میں قائم انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کری ایٹو ٹیکنالوجیز (آئی آئی سی ٹی) جیسے ادارے کے ساتھ شراکت داری نہایت اہم ہے۔
آئی آئی سی ٹی کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہم دوبارہ جموں و کشمیر میں فلمیں بنانا چاہتے ہیں۔ ہم یہاں فلم انڈسٹری کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ہمیں جموں و کشمیر کو فلم سازی کے لیے ایک پرکشش مقام بنانا ہے تو مقامی سطح پر انسانی صلاحیت اور پوسٹ پروڈکشن کی اہلیت پیدا کرنا ہوگی، اور اسی لیے آئی آئی سی ٹی جیسے ادارے کے ساتھ تعلق ہمارے لیے اہم ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایف ڈی سی)، ممبئی میں واقع آئی آئی سی ٹی کیمپس کا دورہ کیا، جہاں جموں و کشمیر حکومت اور ادارے کے درمیان ادارہ جاتی تعاون اور طلبہ کے تبادلے کے امکانات پر غور کیا گیا۔
عمرعبداللہ نے کہا’’آئی آئی سی ٹی اور این ایف ڈی سی کے ساتھ ایک باضابطہ تعلق قائم کیا جا رہا ہے تاکہ ہمارے طلبہ یہاں آ کر پوسٹ پروڈکشن، ایڈیٹنگ، ساؤنڈ، لائٹنگ اور دیگر شعبوں میں جدید مہارتیں سیکھ سکیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں آئی آئی سی ٹی کے اپنائے گئے حب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت، جس میں مرکزی کیمپس کے ساتھ دیگر مقامات پر ذیلی مراکز قائم کیے جاتے ہیں، جموں و کشمیر میں بھی ایک سیٹلائٹ کیمپس قائم کیا جا سکے گا۔
عمر عبداللہ نے کہا’’ ممکن ہے کہ ایک دن آئی آئی سی ٹی کا سیٹلائٹ کیمپس جموں و کشمیر میں قائم ہو۔ آج ہم نے دیکھا کہ کس طرح آئی آئی سی ٹی نے نہایت کم وقت میں یہاں شاندار انفراسٹرکچر قائم کیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یونین ٹیریٹری میں انسانی صلاحیت دستیاب ہو، جس سے لاگت میں کمی آئے اور جموں و کشمیر میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں‘‘۔
آئی آئی سی ٹی کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ ادارہ اے وی جی سی،ایکس آر (اینیمیشن، وی ایف ایکس، گیمنگ، کامکس اور ایکسٹینڈڈ ریئلٹی) کے شعبے میں بھارت کا ایک نمایاں مرکز ہے۔ اسے مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات، حکومتِ مہاراشٹر اور صنعتی اداروں فکی اور سی آئی آئی کے تعاون سے قائم کیا گیا ہے۔ قومی نوڈل ادارے کی حیثیت سے، آئی آئی سی ٹی تعلیمی اداروں، صنعت، ٹیکنالوجی اور پالیسی کو یکجا کر کے ہنرمندی کے فروغ، جدت اور عالمی مسابقت کو مضبوط بناتا ہے۔
اسی موقع پر وزیر اعلیٰ نے عوامی شمولیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ تبدیلی کا آغاز ووٹ کے استعمال سے ہوتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’تبدیلی صرف وہی لا سکتے ہیں جو حصہ لینے کے لیے تیار ہوں۔ حصہ لینے کا مطلب صرف امیدوار بننا نہیں، بلکہ کم از کم ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلنا بھی ہے‘‘۔
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ ووٹنگ صحت مند جمہوریت کے لیے ضروری ہے، عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر ہو یا مہاراشٹر یا ممبئی، ہر جگہ عوام کو اپنے مسائل درپیش ہیں اور نتائج آنے پر ووٹ ہی فیصلہ کریں گے۔انہوں نے مہاراشٹر کی سیاسی صورتحال کو’کچھ عجیب‘قرار دیتے ہوئے کہا’’نہ کوئی دوست رہا، نہ دشمن۔ کہیں دوست دشمن بن گئے اور دشمن دوست۔ کہیں کانگریس اور بی جے پی نے ہاتھ ملا لیا، کہیں بی جے پی اور اے آئی ایم آئی ایم ساتھ آ گئے، اور کہیں ایک ہی پارٹی کے دو دھڑے دوبارہ اکٹھے ہو گئے۔ اس سب کا نتائج پر کیا اثر پڑے گا، میں بھی بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں‘‘۔










