سرینگر: ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس شیو کمار شرما نے جمعرات کو کہا کہ کہرے کا موسم سکیورٹی کے محاذ پر ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آتا ہے۔ وہ سرحدی اضلاع سانبہ اور کٹھوعہ میں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں سے ملاقات کے موقع پر صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ بدھ کے روز مشتبہ افراد کی موجودگی سے متعلق اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد فوری طور پر جوابی کارروائی شروع کی گئی۔
شرما نے کہا’’متعدد ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں اور علاقے میں تلاشی جاری ہے۔ یہ آپریشن اب بھی جاری ہے‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اطلاعات مقامی ذرائع سے موصول ہوئیں اور زمینی انٹیلی جنس نیٹ ورک پوری طرح متحرک ہے۔
علاقے میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈی آئی جی نے کہا کہ مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی گئی ہے۔
ڈی آئی جی کاکہنا تھا’’اطلاعات نہایت قابلِ اعتماد ہیں اور ہم اسی بنیاد پر کارروائی کر رہے ہیں، اس لیے اس مرحلے پر زیادہ تفصیلات شیئر نہیں کی جا سکتیں‘‘۔ انہوں نے کٹھوعہ میں جاری آپریشن کے حوالے سے کہا۔
شرما نے کہا کہ تمام پولیس اہلکار اور زمینی ٹیمیں اپنی ڈیوٹی پر ہیں۔’’ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر انہیں کوئی مشتبہ سرگرمی نظر آئے تو فوراً پولیس سے رابطہ کریں۔ ہماری ٹیمیں عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پوری طرح پُرعزم ہیں اور پورے علاقے میں تعینات ہیں‘‘۔
ڈی آئی جی نے کہاکہ اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی)، زمینی انٹیلی جنس یونٹس اور تمام پولیس پوسٹس کا عملہ تعینات کیا گیا ہے، اور یومِ جمہوریہ سے قبل مسلسل، علاقہ وار تلاشی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا’’یہ کہرے کا موسم ہے، اور کہرا ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ چاہے ڈرونز ہوں یا زمینی فورسز، کہرے میں تلاشی کارروائیاں انجام دینا کئی طرح کی مشکلات پیدا کرتا ہے‘‘۔
شرمانے کہا کہ سرچ آپریشن بدستور جاری ہے اور کسی بھی پیش رفت سے بروقت آگاہ کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا’’ہمارے پاس محبِ وطن شہری ہیں جو کسی بھی مشتبہ سرگرمی کو دیکھتے ہی فوراً پولیس کو اطلاع دیتے ہیں‘‘۔
ڈی آئی جی نے کہا کہ عوامی بیداری کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں’’لوگوں کو بار بار ہدایت دی جا رہی ہے کہ اگر انہیں پاؤں کے نشان، مشتبہ سرگرمی، مشتبہ افراد یا کوئی غیر معمولی نقل و حرکت نظر آئے تو فوری طور پر پولیس کو مطلع کریں‘‘۔
ڈی آئی جی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایس او جی ٹیمیں، زمینی انٹیلی جنس یونٹس اور تمام پولیس پوسٹس و آؤٹ پوسٹس کا عملہ مسلسل تعینات ہے اور علاقے بھر میں مربوط انداز میں تلاشی مہم جاری ہے۔










