کٹھوعہ: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ضلع کٹھوعہ میں۱۱.۵۸ کروڑ مالیت کے ترقیاتی کام عوام کے نام وقف کیے، جن میں مختلف منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد شامل ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا، مقامی انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینا اور ذریعۂ معاش کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔
یہاں ڈپٹی کمشنر آفس کمپلیکس میں منعقدہ ضلعی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے دیہی انٹرپرائز، زراعت اور اس سے منسلک شعبوں پر محیط اہم منصوبوں کا افتتاح کیا، جن سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور مقامی وسائل میں قدر کا اضافہ متوقع ہے۔
اہم افتتاحی منصوبوں میں سلاّن میں بانس دستکاری کا کامن فسیلٹی سینٹر(۲کروڑ ۸۷لاکھ) مقامی مصنوعات کی مارکیٹنگ کے لیے کٹھوعہ کرتی شو روم(۴۱لاکھ۵۱ہزار؍ اور بِلّاور میں اگربتی کامن فسیلٹی سینٹر(۳کروڑ۳۹لاکھ) شامل ہیں، جن کا مقصد مائیکرو انٹرپرینیورز اور سیلف ہیلپ گروپس کی مدد کرنا ہے۔
زرعی شعبے کو مزید مضبوط بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام(ایچ اے ڈی پی) کے تحت پولٹری اور ہیچری یونٹ کٹھوعہ کی اپ گریڈیشن کا بھی افتتاح کیا، جس پر۳کروڑ۸۸لاکھ کروڑ کی لاگت آئی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدنی کو بہتر بنانا ہے۔
تعلیمی شعبے میں وزیر اعلیٰ نے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کٹھیرہ میں آٹھ اضافی کلاس رومز کے لیے سنگِ بنیاد رکھا، جس پر انداز۱اً ایک کروڑ۷۶لاکھ لاگت آئے گی، تاکہ بھیڑ کم ہو اور تعلیمی سہولیات بہتر بنائی جا سکیں۔
ڈپٹی کمشنر کٹھوعہ نے ضلع کا مختصر پروفائل اور مختلف اسکیموں کے تحت پیش رفت پر بریفنگ دی، جس کے بعد وزیر اعلیٰ نے شعبہ وار جسمانی اور مالی کارکردگی کا جائزہ لیا اور محکموں کو معیار اور زمینی سطح پر نمایاں نتائج پر زور دیتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد کی ہدایت دی۔
پی ایم جی ایس وائی اور نابارڈ سے مالی اعانت یافتہ سڑکوں کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے، بہتر نکاسی آب، ڈھلوانوں کے تحفظ اور حفاظتی اقدامات پر زور دیا تاکہ سڑکیں پائیدار اور ہر موسم میں قابلِ استعمال رہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جُٹھانہ پل تکمیل کے قریب ہے اور جلد عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔
زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ پیسٹی سائیڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کو مقررہ مدت میں فعال بنایا جائے اور جے کے اے اے سی ایل کے علاقائی ثقافتی مرکز کی ڈی پی آر کو مکمل طور پر تیار کیا جائے، ساتھ ہی مطلوبہ تجویز جمع ہونے کے بعد فنڈز کی جلد فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر وزراء نے اپنے اپنے محکموں سے متعلق امور پر مداخلت کی اور مناسب ہدایات جاری کیں۔
محنت کشوں کی بہبود کے حوالے سے نائب وزیر اعلیٰ نے ای،شرم کے تحت خاص طور پر دور دراز علاقوں میں وسیع تر رسائی پر زور دیا، جبکہ وزیر اعلیٰ نے اہل مستفیدین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت اور پانی کے تحفظ پر مرکوز کوششوں کی ہدایت دی۔ غذائی اجناس کی تقسیم سے متعلق مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں سخت کوالٹی چیکس اور اچانک معائنوں کی ہدایت دی گئی۔
روزگار کے مواقع پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ جاب فیئرز کو نتیجہ خیز بنایا جائے اور مشن یووا کو منتخب نمائندوں کی فعال شمولیت کے ساتھ نافذ کیا جائے تاکہ نوجوانوں تک زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل ہو سکے۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر سکینہ ایتو نے تدریسی عملے کی عقلی تقسیم، خالی گائناکولوجسٹ اسامیوں کو پُر کرنے پر زور دیا اور ہدایت دی کہ بعض پہلے جاری کیے گئے تبادلہ احکامات کو انکوائری تک معطل رکھا جائے۔
منتخب نمائندوں نے صحت اور تعلیم میں عملے کی کمی، بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی تکمیل، پینے کے پانی کی فراہمی، غیر منسلک دیہات کی بجلی کاری، سڑک رابطہ، اسپورٹس انفراسٹرکچر، بندروں کی بڑھتی ہوئی آفت، سیلاب سے تحفظ کے اقدامات، تعلیمی اور باغبانی منصوبوں سے متعلق اراضی کے مسائل اور صنعتی یونٹس میں مقامی نوجوانوں کے روزگار جیسے امور اٹھائے۔ انہوں نے مختلف حلقوں میں صحت سہولیات اور انتظامی انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور مرمت کا مطالبہ بھی کیا۔
ایم ایل ایز نے اس موقع پر ایسوسی ایٹڈ ہاسپٹل جی ایم سی کٹھوعہ میں ایم آر آئی مشین کی منظوری پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور وزیر صحت سکینہ ایتو کا شکریہ ادا کیا، جس سے خطے کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔
ان خدشات کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ تمام جائز مطالبات پر مرحلہ وار اور مقررہ مدت کے اندر غور کر کے انہیں حل کیا جائے گا۔
ضلع کیپیکس کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے حالیہ سیلاب کے دوران بھی مسلسل کوششوں پر ضلع انتظامیہ کی ستائش کی اور محکموں کو ہدایت دی کہ مکمل اخراجات اور معیاری اثاثہ جاتی تخلیق کو یقینی بنانے کے لیے افرادی قوت اور مشینری میں تیزی لائیں۔ انہوں نے جل جیون مشن کے تحت پانی کے معیار کی جانچ میں تیزی، SASCI منصوبوں کی بروقت تکمیل اور صنعتی پالیسی کے تحت اصلاحات کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت دی تاکہ مقامی روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو سکے۔










