جموں: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ انہوں نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں داخلہ پانے والے طلبہ کو فوری طور پر ان کے آبائی علاقوں کے قریب سہولیات میں منتقل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
یہ فیصلہ نیشنل میڈیکل کمیشن کے میڈیکل اسیسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ(ایم اے آر بی )کی جانب سے کم از کم معیارات پر پورا نہ اترنے کے باعث جموں کے ضلع ریاسی میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس کو دی گئی لیٹر آف پرمیشن واپس لینے کے ایک دن بعد سامنے آیا۔
ایم اے آر بی نے کہا کہ تعلیمی سال۲۰۲۵۔۲۶کے دوران کاؤنسلنگ کے ذریعے کالج میں داخل کیے گئے تمام طلبہ کو یونین ٹیریٹری انتظامیہ کی مجاز اتھارٹی کے ذریعے جموں و کشمیر کے دیگر میڈیکل اداروں میں سپر نیومری نشستوں پر ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
ایم اے آر بی کا یہ حکم سنگھرش سمیتی کی جانب سے جاری احتجاج کے پس منظر میں آیا، جو بی جے پی کی حمایت یافتہ دائیں بازو کی تنظیموں کا ایک نیا اتحاد ہے۔ اس احتجاج میں میڈیکل کالج میں داخلوں کی منسوخی اور شری ماتا ویشنو دیوی پر ایمان رکھنے والے طلبہ کے لیے خصوصی طور پر نشستیں محفوظ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
یہ تنظیم اُس وقت وجود میں آئی جب۵۰طلبہ پر مشتمل ایم بی بی ایس کے پہلے بیچ میں داخلے نیٹ میرٹ لسٹ کے ذریعے مکمل ہوئے۔
ان۵۰میں سے۲۴طلبہ مسلمان تھے، جن میں اکثریت کا تعلق کشمیر سے تھا، جبکہ جموں سے سات ہندو طلبہ اور ایک سکھ امیدوار شامل تھا۔ اس تناسب نے دائیں بازو کے گروہوں میں شدید ردِعمل کو جنم دیا۔
وزیر اعلیٰ نے سانبہ میں ایک ضلعی جائزہ اجلاس سے خطاب کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’میں نے وزیر صحت (سکینہ ایتو) کو ہدایت دی ہے کہ ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج سے اجازت نامہ واپس لیے جانے سے متاثر ہونے والے طلبہ کو ان کے گھروں کے قریب سرکاری میڈیکل کالجوں میں ایڈجسٹ کیا جائے۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ اس عمل میں تیزی لائی جانی چاہیے تاکہ طلبہ اپنی طبی تعلیم جاری رکھ سکیں اور مستقبل میں خطے کے عوام کی خدمت کر سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے اجازت نامہ منسوخ کیے جانے پر دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے خوشی منانے کی بھی شدید مذمت کی۔انہوں نے کہا:’’یہ خوشی کس بات کی ہے؟ ملک کے لوگ میڈیکل کالج حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، اور یہاں جموں و کشمیر کے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کے لیے ایک میڈیکل کالج کو بند کروانے کی تحریک چلائی گئی۔اگر بچوں کا مستقبل تباہ کرنے سے آپ کو خوشی ملتی ہے تو پٹاخے پھوڑیں۔ اس بار۵۰میں سے۴۰نشستیں کشمیر کو گئیں۔ ایک یا دو سال بعد یہی۵۰نشستیں۴۰۰بن جاتیں۔ ان۴۰۰میں سے ممکن ہے۲۰۰یا۲۵۰بچے جموں کے ہوتے۔ کل کو وہ بچے میڈیکل کالج کی نشستیں نہیں حاصل کر سکیں گے کیونکہ آپ نے مذہب کے نام پر پورا کالج بند کروا دیا۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ مستقبل میں جو بچے اس میڈیکل کالج کی بندش کے باعث میڈیکل نشستیں حاصل نہیں کر سکیں گے، انہیں ’’سنگھرش سمیتی کے لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے‘‘۔
ایک اور سوال کے جواب میں، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقی اور نظم و نسق کے لحاظ سے ضلع سانبہ کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔انہوں نے کہا:’’ایک دو شعبوں میں کام کی رفتار تھوڑی تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ معائنہ کیا گیا اور ہدایات جاری کی گئیں۔ مجھے امید ہے کہ جب۳۱ مارچ کو مالی سال ختم ہوگا تو سانبہ ضلع کی کارکردگی دیگر اضلاع کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہوگی۔‘‘
فٹبال اور کرکٹ ٹیموں میں، جن میں زیادہ تر کھلاڑی کشمیر سے منتخب ہونے پر حالیہ تنازعات کے بارے میں سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا’’جہاں تک میرا تعلق ہے، مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ کوئی کھلاڑی کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ مجھے صرف اس بات سے غرض ہے کہ جموں و کشمیر کی ٹیم کی کارکردگی اچھی ہونی چاہیے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ کل انڈر۱۶کرکٹ ٹیم سے ملاقات کریں گے، جس نے پہلی بار وجے مرچنٹ ٹرافی جیتی ہے، اور ذاتی طور پر تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد دیں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا’’مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی یہاں سے بننے والی ٹیمیں آگے بڑھیں گی اور کامیابی کے ساتھ لوٹیں گی۔‘‘










