جموں: ابھرتے ہوئے روزگار کے مواقع کے لیے جموں و کشمیر کی آبادی کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے کی ایک بڑی پہل کے طور پر، محکمہ اسکل ڈیولپمنٹ نے آج یونین ٹیریٹری کے چیف سیکریٹری اٹل ڈولو کے سامنے جموں و کشمیر کے اسکلنگ ایکو سسٹم کو تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع اور دور رس روڈ میپ پیش کیا۔
اس اجلاس میں مقامی جامعات کے وائس چانسلرز، آئی آئی ایم جموں کے ڈائریکٹر، جموں و کشمیر بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر، سیکریٹری تعلیم، منیجنگ ڈائریکٹر اسکل مشن اور آئی آئی ٹی، نِفٹ سمیت دیگر ممتاز تعلیمی و پیشہ ور اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
روڈ میپ کا جائزہ لیتے ہوئے چیف سیکریٹری نے جموں و کشمیر میں گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز(جی سی سیز) کے قیام کے امکانات تلاش کرنے پر زور دیا، تاکہ بہتر اور اعلیٰ معیار کے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ انہوں نے یونین ٹیریٹری میں ہنرمند افرادی قوت کا مضبوط ذخیرہ تیار کرنے کے لیے فیلوشپ پروگرام شروع کرنے کی بھی تجویز دی۔
چیف سیکریٹری نے منصوبے کے مجموعی خاکے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ آبادی کے مختلف طبقات کی مہارت سازی کے لیے تمام ضروری عناصر کو سمیٹے ہوئے ہے اور ایک جامع و مستقبل بین وژن کا حامل ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روڈ میپ کو مزید عملی، نتائج پر مبنی اور قابلِ نفاذ بنایا جائے، جس میں آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایمز، ایمز، این آئی ٹیز، جامعات، اسکےمز اور دیگر پیشہ ور اداروں سمیت تمام شریک اداروں کے کردار اور ذمہ داریاں واضح طور پر متعین ہوں۔
روزگار کے امکانات کو مرکزِ نگاہ رکھتے ہوئے چیف سیکریٹری نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے مابین روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیا، تاکہ اسکلنگ پروگرامز کو مارکیٹ سے ہم آہنگ اور ملازمت پر مبنی بنایا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ روڈ میپ کو جامعات، تعلیمی اداروں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے ساتھ آراء اور تجاویز کے لیے شیئر کیا جائے، تاکہ حتمی دستاویز مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بن سکے۔
روڈ میپ پیش کرتے ہوئے سیکریٹری محکمہ اسکل ڈیولپمنٹ کمار راجیو رنجن نے بتایا کہ یہ منصوبہ آئندہ پانچ برسوں میں نافذ کیا جائے گا، جس کا مقصد صنعت سے ہم آہنگ مہارت سازی کے ذریعے جموں و کشمیر کے افراد کو بااختیار بنانا، جامع ترقی، بہتر روزگار اور طویل مدتی معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس روڈ میپ کا بنیادی مقصد ہر فرد کو مارکیٹ سے ہم آہنگ مہارتوں کے ذریعے باعزت روزگار فراہم کرنا اور موجودہ و مستقبل کی معیشت میں مواقع پیدا کرنا ہے۔
سیکریٹری نے مزید بتایا کہ مجوزہ اہداف میں۶ سے۷لاکھ اسکولی طلبہ کو اسکلنگ سے روشناس کرانا‘۲سےڈھائی لاکھ کالج طلبہ کے لیے منظم اسکل کورسز، اور۵سے۶لاکھ نوجوانوں و کام کرنے کی عمر کے افراد کے لیے تکنیکی یا قلیل مدتی تربیت شامل ہے، تاکہ متعلقہ شعبوں میں تاحیات سیکھنے کے کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔ روڈ میپ کو چار مربوط مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، جو اسکلنگ اور روزگار کے مختلف مراحل کا احاطہ کرتے ہیں۔
محکمہ اسکل ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر شہزاد عالم نے نفاذی حکمتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پہلا مرحلہ، اسکولوں میں بنیادی اسکلنگ، جماعت ششم سے بارہویں تک کے طلبہ کے لیے فنی اور اکیسویں صدی کی مہارتوں سے لازمی تعارف پر مرکوز ہے۔ اس میں طلبہ کو مختلف پیشوں، خدمات، ڈیجیٹل معیشت، مقامی کاروبار اور ورک پلیس تیاری سے آگاہ کیا جائے گا۔
دوسرا مرحلہ، کالجوں میں کیریئر لانچ پیڈ، کالج طلبہ، بارہویں پاس نوجوانوں اور تازہ گریجویٹس کے لیے ہے، جس میں ضمنی اسکل کورسز، سمر انٹرن شپس اور مسابقتی امتحانات کی تیاری شامل ہے۔
تیسرا مرحلہ، انڈسٹری کے لیے تیار تکنیکی اسکلنگ، آئی ٹی آئیز، پولی ٹیکنکس اور تکنیکی اداروں کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے، جبکہ چوتھا مرحلہ، اپ اسکلنگ اور تاحیات تعلیم، موجودہ ورک فورس اور غیر رسمی شعبے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
اجلاس میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے ایک متحدہ جاب پورٹل کی تجویز پر بھی بریفنگ دی گئی، جو قومی، بین الاقوامی اور مقامی سطح کے روزگار کے مواقع کو یکجا کرے گا۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک روزگار کے لیے بھی ایک منظم حکمتِ عملی پیش کی گئی، جس میں نوجوانوں کی ترجیحات، زبان مراکز اور عالمی بھرتی ایجنسیوں کے ساتھ شراکت داری شامل ہے۔
آخر میں شریک اسٹیک ہولڈرز نے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، دستیاب وسائل کے بہتر استعمال اور باہمی ہم آہنگی کے ذریعے اسکلنگ ایکو سسٹم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی قیمتی تجاویز پیش کیں۔










