سرینگر: نئی حاصل شدہ امریکی سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ مئی۲۰۲۵میں بھارت کے آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے واشنگٹن میں غیر معمولی اور بھرپور سفارتی و لابنگ مہم چلائی، جس کا مقصد امریکا پر دباؤ ڈال کر بھارت کی فوجی کارروائی کو ’کسی نہ کسی طرح روکنا‘ تھا۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر کے پہلگام میں پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گرد حملے کے بعد بھارت کے فوجی ردِعمل کے تناظر میں کی گئی تھی۔
این ڈی ٹی وی کی جانب سے جائزہ لی گئی دستاویزات کے مطابق، آپریشن سندور کے آغاز سے لے کر جنگ بندی کے مکمل نفاذ تک، پاکستانی سفارت کاروں اور دفاعی حکام نے امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں، قانون سازوں اور بااثر میڈیا اداروں کے ساتھ۵۰سے زائد ملاقاتوں کی کوشش کی۔
یہ ریکارڈ امریکی فارِن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ(ایف اے آر اے کے تحت جمع کرائے گئے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکا میں پاکستان کے سفیر اور دفاعی اتاشی نے ای میلز، فون کالز اور بالمشافہ ملاقاتوں کے ذریعے۶۰ سے زائد امریکی عہدیداروں اور ثالثوں سے مسلسل رابطہ کیا۔
ان رابطوں کا واضح مقصد یہ تھا کہ واشنگٹن کو مداخلت پر آمادہ کیا جائے اور پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت کی فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔
یہ لابنگ مہم امریکی کانگریس، پینٹاگون، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور نمایاں امریکی صحافیوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ پاکستانی نمائندوں نے کشمیر، علاقائی سلامتی، نایاب معدنیات (ریئر ارتھ منرلز) اور وسیع تر دوطرفہ تعلقات پر گفتگو کی، ساتھ ہی امریکی میڈیا اداروں کو انٹرویوز اور بیک گراؤنڈ بریفنگز دینے کی کوشش بھی کی۔
دستاویزات میں کئی مقامات پر ان سرگرمیوں کو ’’پاکستان کی مسلسل نمائندگی‘‘ قرار دیا گیا ہے، جو اس مہم کی شدت اور تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ سرگرمیاں کسی خلا میں نہیں ہوئیں۔ نومبر۲۰۲۵ میں نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان نے واشنگٹن کی چھ لابنگ فرموں کے ساتھ سالانہ تقریباً۵۰لاکھ ڈالر کے معاہدے کیے تھے، تاکہ ٹرمپ انتظامیہ تک تیز تر رسائی حاصل کی جا سکے اور تجارت و سفارت میں سازگار نتائج نکلوائے جائیں۔
اسلام آباد کی جانب سے ایک فرم کے ساتھ معاہدے کے چند ہی ہفتوں بعد اُس وقت کے امریکی صدر‘ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم نیر کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا۔ اس ملاقات کو امریکا میں پاکستان کی اعلیٰ سطح تک دوبارہ رسائی کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔
نیو یارک ٹائمز کی تحقیق کے مطابق، اپریل اور مئی۲۰۲۵میں پاکستان نے لابنگ پر اپنے اخراجات میں ڈرامائی اضافہ کیا اور اسی عرصے میں بھارت کے مقابلے میں کم از کم تین گنا زیادہ رقم خرچ کی۔
اخبار کے مطابق، اس لابنگ کے نتیجے میں امریکا کی پالیسی میں واضح تبدیلی نظر آئی، جو اس سے قبل کشیدہ امریکہ پاکستان تعلقات کے برعکس تھی۔ اس دور میں صدر ٹرمپ کی کھلے عام تعریف، ان کے نام کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی باتیں، اور منافع بخش تجارتی و کاروباری مراعات کے حصول کی کوششیں نمایاں رہیں۔
متعدد سفارتی ذرائع کے مطابق۲۰۲۵کی ایف اے آر اے فائلنگز ایک وسیع تر رجحان کی تصدیق کرتی ہیں:پاکستان نے کیپیٹل ہِل اور امریکی میڈیا ایکوسسٹم میں اپنی لابنگ موجودگی کو نمایاں طور پر وسعت دی، جہاں بعض انفرادی معاہدے اور مہمات کی مالیت لاکھوں ڈالر تک جا پہنچی۔
اگرچہ سال کے آخر میں ان اخراجات میں کمی کے آثار نظر آتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ دستاویزات ایک ایسے ملک کی تصویر پیش کرتی ہیں جو شدید فوجی اور سفارتی دباؤ میں تھا، اور جس نے بھارت کی زمینی برتری کو روکنے کی امید میں ہنگامی طور پر واشنگٹن کا رخ کیا۔










