سرینگر: وادی کشمیر میں گرچہ چالیس روزہ چلہ کلاں کا کم وبیش نصف حصہ بیت چکا ہے تاہم آنے والے دنوں میں وادی میں برف باری کی بجائے سردیوں میں مزید اضافے کا امکان ہے ۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کشمیر میں۲۰جنوری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کے بیچ شبانہ سردیوں میں اگلے چار دنوں کے دوران مزید اضافے کا امکان ہے ۔
متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی میں۶جنوری کو موسم جزوی سے مجموعی طور پر ابر آلود رہنے کے ساتھ شمالی، وسطی اور جنوبی کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی برف باری ہوسکتی ہے ۔
ترجمان نے کہا کہ بعد میں۷سے۱۵جنوری تک موسم جزوی طور پر ابر لود رہ سکتا ہے جبکہ۱۶سے۱۸جنوری تک بھی موسم کی یہی صورتحال جاری رہ سکتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی میں۱۰؍اور۲۰جنوری کو موسم مجموعی طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے ۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ وادی میں۱۰جنوری تک شبانہ درجہ حرارت میں مزید گراوٹ درج ہوسکتی ہے جس کے بعد شبانہ درجہ حرارت میں بہتری متوقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں ریاست کے میدانی علاقوں میں آئندہ دو دنوں کے دوران درمیانی درجے کی دھند جاری رہ سکتی ہے ۔
ادھر وادی میں سخت سردیوں اور بھاری برف باری کے لئے مشہور چالیس روزہ چلہ کلاں کم وبش نصف حصہ بیت جانے کے با وجود میدانی علاقے برف باری کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
وادی کے بالائی علاقوں اور سیاحتی مقامات میں گرچہ ہلکی یا درمیانی درجے کی برف باری ہوئی جس سے سرمائی سیاحت کو تقویت مل گئی لیکن سری نگر سمیت دیگر میدانی علاقوں میں خشک موسمی صورت حال نے لوگوں کو پریشان کر دیا ہے ۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ماہ جنوری میں برف باری کا نہ ہونا ایک تشویش ناک امر ہے ۔
وادی کے کسان و باغ مالکان خاص طور پر برف باری کا نہ صرف انتظار کر رہے ہیں بلکہ اس کے لئے دعا ئیں بھی مانگ رہے ہیں۔
اعجاز احمد نامی ایک باغ مالک نے بتایا’’رواں ماہ میں برف باری کا ہونا انتہائی ضروری ہے ، کیونکہ اس مہینے میں جو برف باری ہوتی ہے اس کے درختوں اور زمین پر دیر پا اثرات رہتے ہیں جس کے کافی فائدے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا’’چلہ کلاں کے اختتام کے بعد بھی بھاری برف باری ہوتی ہے لیکن اس وقت درجہ حرارت نقطہ انجماد سے اوپر ہی ریکارڈ ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ برف زمین پر زیادہ دیر تک نہیں رہتی ہے ۔‘‘










