سرینگر/۲۹دسمبر
ضلع انتظامیہ کپواڑہ نے پیر کے روز ضلع بھر میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک(وی پی این) کے استعمال پر دو ماہ کی مکمل پابندی کا حکم صادر کیا ہے ، جس کا مقصد سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانا، امن و امان کو برقرار رکھنا اور ممکنہ شرپسند سرگرمیوں پر روک لگانا بتایا گیا ہے ۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کپواڑہ شری کانت بالا صاحب کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا جب ایس ایس پی کپواڑہ اور ایس ایس پی ہندوارہ نے انٹرنیٹ صارفین کے ایک بڑے حصے کی جانب سے وی پی این کے غیر ضروری اور مشکوک استعمال کی رپورٹس انتظامیہ کو بھیجیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وی پی این کا غلط استعمال انتشار پھیلانے ، گمراہ کن اور اشتعال انگیز مواد کی ترسیل اور ایسے نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہو سکتا ہے ، جو امن و امان کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہوں۔
بی این ایس ایس۲۰۲۳کی دفعہ۱۶۳کے تحت جاری کیے گئے اس حکم میں ضلع کی حدود میں ہر قسم کی وی پی این خدمات پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ، البتہ وہ خدمات مستثنیٰ ہوں گی جنہیں حکومت کی جانب سے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل ہو۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندی انفرادی صارفین، اداروں، سائبر کیفے اور ضلع میں کام کرنے والے تمام انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان پر یکساں طور پر لاگو ہوگی۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد یا اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ایس ایس پی کپواڑہ اور ہندواڑہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حکم نامے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ پابندی فوری طور پر نافذ ہو چکی ہے اور یہ اگلے دو ماہ تک موثر رہے گی، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے قبل از وقت بھی واپس لیا جا سکتا ہے ۔
یو این آئی










