سرینگر/۲۷ دسمبر
کشمیر میں شدید سردی کی لہر کے پیش نظر، گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سرینگر کے شعبہ امراضِ قلب نے آج ایک عوامی ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں دل سے متعلق ہنگامی حالات میں نمایاں اضافے کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے ’’تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے‘‘۔ اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ شدید سردی کس طرح کمزور اور حساس افراد کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے، اور فوری احتیاطی اقدامات اختیار کرنے اور خطرے کی علامات سے آگاہ رہنے پر زور دیا گیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق سرد موسم میں خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوتا ہے اور دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ یہ عمل عالمی سطح پر دل کے دوروں میں اضافے سے منسلک پایا گیا ہے۔
ایڈوائزری میں ان افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں زیادہ خطرہ لاحق ہے۔اس میں کہا گیا ہے ’’وہ افراد جنہیں دل کی بیماری لاحق ہو یا جنہیں پہلے دل کا دورہ یا فالج ہو چکا ہو۔ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یا گردوں کی بیماری میں مبتلا مریض۔معمر افراد اور تمباکو نوشی کرنے والے۔وہ افراد جو سردیوں کی صبحوں میں اچانک جسمانی سرگرمی میں اضافہ کر دیتے ہیں‘‘۔
اس میں لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ’’گرم لباس پہنیں، بالخصوص سینہ، سر اور جسم کے آخری حصوں (ہاتھ پاؤں) کو اچھی طرح ڈھانپیں۔صبح سویرے شدید سردی میں باہر نکلنے سے گریز کریں۔دل سے متعلق تمام تجویز کردہ ادویات بغیر کسی وقفے کے جاری رکھیں۔بلڈ پریشر کی باقاعدہ نگرانی کریں، کیونکہ سردیوں میں اس کی سطح بڑھنے کا رجحان ہوتا ہے‘‘۔
ایڈوائزری میں لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہلکی اور معتدل ورزش کریں اور اچانک سخت جسمانی مشقت سے پرہیز کریں۔سانس کی بیماریوں کا بروقت علاج کروائیں، کیونکہ یہ دل کے ہنگامی مسائل کو جنم دے سکتی ہیں۔
ایڈوائزری میں ایک بار پھر زور دیا گیا ہے’’بروقت طبی مداخلت جان بچاتی ہے۔ علامات کے خود بخود ختم ہونے کا انتظار ناقابلِ تلافی نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔‘‘
دل کے مریضوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہنگامی رابطہ نمبرز اپنے پاس رکھیں اور کسی بھی ہنگامی حالت میں فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔ ایڈوائزری کے مطابق، سردیوں میں پیش آنے والے دل کے بیشتر ہنگامی معاملات قابلِ تدارک ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سردیوں میں دل سے متعلق بیشتر ہنگامی واقعات قابلِ تدارک ہیں‘بشرطیکہ احتیاط برتی جائے، علامات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور بروقت علاج حاصل کیا جائے۔
کشمیر کی سردی صرف موسم کا امتحان نہیں، دل کی صحت کا بھی کڑا امتحان ہے۔
(ندائے مشرق خبر)










