چلہ کلان کی یخ بستہ ہواؤں میں گرماہٹ اور حرارت پیدا کرنے کیلئے ہم حریت کانفرنس کے چیئرمین ‘ معاف کریں ہمارے کہنے کا مطلب ہے کہ کشمیر کے میرواعظ‘ مولوی محمد عمر فاروق کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں… اللہ میاں انہیں صحت بدن عطا کرے کہ اس سرد و خشک موسم ‘ جس سے کشمیر بوریت کا شکا ر ہو رہے تھے … انہیں کچھ نیا ہو تے ہو ئے دکھائی نہیں دے رہا تھا … ایکس کے ہینڈل سے ’چیئر مین حریت کانفرنس ‘ ہٹا کر میرواعظ صاحب نے کشمیر کی سیاسی فضا میں جو حرارت پیدا کی ہے ‘ اس کیلئے وہ ہماری طرف سے مبارکباد قبول کریں … ہمیں انتظار تھا … اس دن کا کئی ہفتوں ‘ مہینوں اور برسوں سے انتظار تھا … لیکن بہر حال ہر ایک چیز کا اپنا ایک وقت ہو تا ہے… سو کچھ ایک تعارفی کلمات کو ہٹانے کا بھی ایک وقت تھا اور جب یہ وقت آیا تو… تو کشمیر میں جتنے منہ اتنی باتیں… ہم معترض نہیں ‘ ہمیں کوئی اعراض نہیں … اور اس لئے نہیں کہ اللہ میاں نے ہر ایک کے منہ میں بغیر ہڈی کے گوشت کا ایک ٹکڑا عطا کیا ہے… عنایت کیا ہے… ظاہر ہے کہ بغیر ہڈی کے اس ٹکرے کا بھی اپنا ایک کام ہے … جب سے میرواعظ صاحب نے ایکس سے اپنا تعارفی جملہ ہٹا دیا لوگ بغیر ہڈی کے گوشت کے اس ٹکڑے سے خوب کام لے رہے ہیں… اپنے وحید پرہ صاحب صلح حدیبیہ کا حوالے دے رہے ہیں… اپنے عمران انصاری صاحب وادی میں تین چار دہائیوں سے بہے خون کا حساب مانگ رہے ہیں… ان کے باس‘ سجاد غنی لون صاحب اسے’ سمجھوتہ ‘قرار دے رہے ہیں … اور کچھ ایک ایسے بھی ہیں جنہیں لگتا ہے کہ میرواعظ نے جو کچھ بھی کیا صحیح کیا… ان میں بی جے پی پیش پیش ہے جس کا جاننا اور ماننا ہے کہ ایسا مودی جی کی کشمیر کے حوالے سے پالیسی کا نتیجہ ہے …ایسی پالیسی جہاں علیحدگی پسندی کیلئے کوئی جگہ ہے اور نہ ایسی سوچ رکھنے والوں کیلئے…بالکل صحیح ہے… اگر ہمیں کچھ صحیح نہیں لگ رہا ہے تو وہ سجاد لون اور ان کے عمران انصاری کی باتیں… یقینا انہوں نے جو کچھ کہا بالکل صحیح کہا… لیکن سجاد لون بھی تو ایک زمانے میں وہی کچھ کررہے تھے جو میر واعظ کررہے ہیں… ان کا تعلق بھی تو علیحدگی پسند سیاست سے تھا … گہرا تعلق … پھر جاکے انہوں نے سوچ بدلی اور قومی دھارے میں پناہ لی … کیا سوچ کر یہ تو ہم نہیں جانتے ہیں… لیکن سجاد صاحب بتائیں نا کہ انہوں نے جو کیا… کیا وہ ’سمجھوتہ ‘ نہیں تھا…وہ سمجھوتہ جس کا یہ میرواعظ کو آج طعنہ دے رہے ہیں …رہی عمران انصاری کی بات تو صاحب اپنے وہ پہلے حساب اپنے باس سجاد لون سے تو مانگیں… پھر میر واعظ سے اس کا تقاضہ کریں ۔ ہے نا؟




