ایسا نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے کہ ہمیں ان کی باتوں… وزیرا علیٰ ‘عمرعبداللہ کی باتوں پر یقین نہیں ہے… ایسا نہیں ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں ان کی باتوں پر یقین ہے… اتنا ہی یقین ہے جنتا ہمیں ایک سیاستدان کی باتوں پر یقین کرنا چاہئے … لیکن نہ جانے کیوں ہمیں ان کی اس بات پر یقین نہیں آرہا ہے … گرچہ ہم ان کی اس بات پر یقین کرنا چاہتے ہیں ‘ ہم دل سے چاہتے ہیں کہ وزیرا علیٰ جو کہہ رہے ہوں سچ کہہ رہے ہوں اور… اور سچ میں سرینگر میں ۴۸ فیصد لوگوں کو ۷x۲۴ بجلی ملنا شروع ہو گئی ہے… جی ہاں وزیر اعلیٰ کا تو یہی کہنا ہے ان ۴۸ فیصد … شہر سرینگر کے ان ۴۸ فیصد علاقوں میں بغیر خلل کے بجلی جاری ہے… اور یہ ہماری لئے ایسی خبر ہے جس پر پورا کشمیر بھروسہ کرنا چاہے گا… لیکن کیا وہ بھروسہ کرے گا… یہ ہم نہیں جانتے ہیں اور… اور اس لئے نہیں جانتے ہیں کہ… کہ کشمیر کیلئے ۷x۲۴ بجلی کی فراہمی ایک ایسا خواب ہے جس کے بارے میں لوگوں کا جاننا اور ماننا ہے کہ یہ خواب … خواب میں بھی پورا نہیں ہو گا… بالکل بھی نہیں ہو گا اور… اور ایسے میں اگر وزیر اعلیٰ یہ غیر متوقع اعلان کریں وہ بھی سردیوں میںکہ…کہ شہر سرینگر کے ۴۸ فیصد علاقوں میں ۷x۲۴ بجلی فراہم کی جا رہی ہے تو… تو اللہ میاں کی قسم لوگوں کیلئے اس سے بڑی خبر … خوش خبر کوئی اور نہیں ہو سکتی ہے… بالکل بھی نہیں ہو سکتی ہے… کہ… کہ ہم … ہم کشمیری جانتے ہیں کہ اس کے معنی کیا ہیں … اس کی اہمیت کیا ہے کہ آج بھی کشمیر ی جب کسی سے بات کرتے ہیں… علیک سلیک بعد میں کرتے ہیں… دُعا سلام سے پہلے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کے ہاں بجلی ہے؟یہ سوال صدیوں سے نہ سہی بلکہ کئی دہائیوں سے پوچھا جاتا آیا ہے اور… اور آج بھی پوچھا جارہا ہے… لیکن… لیکن اب امید ہے کہ کم از کم شہر کے اُن ۴۸ فیصد علاقوں ‘ جہاں وزیر اعلی کے مطابق ۷x۲۴ بجلی دستیاب ہے… لوگ بجلی کا حال بعد میں پوچھنا شروع کریں گے پہلے دُعا سلام ہی کیا کریں گے… اگر … اگر وزیر اعلیٰ جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہو…گرچہ ہم دل و جان سے چاہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہو… سو فیصد سچ ۔ ہے نا؟




