فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں انڈوں کو کینسر کے خطرے سے جوڑا جا رہا تھا۔ ادارے نے ان دعوؤں کو گمراہ کن، سائنسی بنیادوں سے عاری اور عوام میں غیر ضروری خوف پیدا کرنے والا قرار دیا ہے۔
ہفتہ کے روز جاری ایک بیان میں فوڈ سیفٹی ریگولیٹر نے واضح کیا کہ ملک میں دستیاب انڈے انسانی استعمال کیلئے محفوظ ہیں اور ان میں سرطان پیدا کرنے والے مادّوں کی موجودگی سے متعلق رپورٹس کا کوئی سائنسی جواز نہیں ہے۔
یہ وضاحت ان میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس کے بعد سامنے آئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت میں فروخت ہونے والے انڈوں میں نائٹروفیوران میٹابولائٹس (اے او زیڈ) پائے گئے ہیں، جنہیں کینسر سے جوڑا جا رہا تھا۔
ایف ایس ایس اے آئی حکام نے کہا کہ نائٹروفیورانز کا استعمال پولٹری اور انڈوں کی پیداوار کے تمام مراحل میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (کنٹیمننٹس، ٹاکسنز اینڈ ریزیڈیوز) ریگولیشنز۲۰۱۱ کے تحت مکمل طور پر ممنوع ہے۔
ادارے نے وضاحت کی کہ نائٹروفیوران میٹابولائٹس کیلئے۰ء۱ مائیکروگرام فی کلوگرام کی ایکسٹرانئیس میکسیمم ریزیڈیو لمٹ (ای ایم آر ایل) صرف ریگولیٹری نفاذ کے مقصد کیلئے مقرر کی گئی ہے۔ یہ حد جدید لیبارٹری ٹیکنالوجی کے ذریعے قابلِ شناخت کم از کم سطح کی نمائندگی کرتی ہے اور اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس مادّے کے استعمال کی اجازت ہے۔
ایف ایس ایس اے آئی کے ایک اہلکار نے کہا’’ای ایم آر ایل سے کم سطح پر معمولی ذرات کی موجودگی نہ تو فوڈ سیفٹی کی خلاف ورزی ہے اور نہ ہی اس سے کسی صحت کے خطرے کا اشارہ ملتا ہے‘‘۔
ادارے نے کہا کہ بھارت کا ریگولیٹری فریم ورک عالمی معیارات کے مطابق ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ بھی خوراک پیدا کرنے والے جانوروں میں نائٹروفیورانز کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہیں اور صرف نفاذ کے لیے رہنما حدود استعمال کرتے ہیں۔
ایف ایس ایس اے آئی نے واضح کیا کہ مختلف ممالک میں عددی حدود میں فرق صارفین کی حفاظت کے معیار میں فرق نہیں بلکہ تجزیاتی اور ریگولیٹری طریقۂ کار کے اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔
عوامی صحت کے حوالے سے ایف ایس ایس اے آئی نے سائنسی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نائٹروفیوران میٹابولائٹس کی معمولی غذائی مقدار اور کینسر یا دیگر مضر صحت اثرات کے درمیان کوئی ثابت شدہ تعلق موجود نہیں۔
ادارے نے دوٹوک انداز میں کہا’’کسی بھی قومی یا بین الاقوامی صحت ادارے نے عام انڈوں کے استعمال کو کینسر کے بڑھتے خطرے سے منسلک نہیں کیا ہے‘‘۔
کسی مخصوص انڈوں کے برانڈ سے متعلق ٹیسٹنگ رپورٹس پر وضاحت کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ ایسی دریافتیں عموماً محدود اور مخصوص بیچ تک ہوتی ہیں، جو اکثر غیر ارادی آلودگی یا فیڈ سے متعلق عوامل کی وجہ سے سامنے آتی ہیں، اور پورے ملک کی انڈوں کی سپلائی چین کی نمائندگی نہیں کرتیں۔
بیان میں کہا گیا’’چند الگ تھلگ لیبارٹری نتائج کی بنیاد پر انڈوں کو غیر محفوظ قرار دینا سائنسی طور پر غلط ہے‘‘۔
ایف ایس ایس اے آئی نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ مستند سائنسی شواہد اور سرکاری ہدایات پر ہی بھروسہ کریں، اور اس بات کا اعادہ کیا کہ فوڈ سیفٹی ضوابط کے مطابق تیار اور استعمال کیے جانے والے انڈے ایک محفوظ، غذائیت سے بھرپور اور متوازن خوراک کا اہم جزو ہیں۔










