جموں صوبے کے راجوری ضلع میں مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کی اطلاعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب مختلف دیہات میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق یہ آپریشن آدھی رات کے قریب شروع ہوا جو صبح ہونے کے بعد بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے ۔
ذرائع نے بتایا کہ تھنہ منڈی اور منجاکوٹ سب ڈویژنوں کے درمیان واقع کچھ دیہات میں مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع موصول ہونے کے بعد فوری طور پر مشترکہ سکیورٹی ٹیموں کو الرٹ کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق ان علاقوں میں نامعلوم افراد کی نقل و حرکت دیکھی گئی تھی، جس کے پیش نظر کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ذرائع کے مطابق۴۹راشٹریہ رائفلز، جموں و کشمیر پولیس اور اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) پر مشتمل مشترکہ ٹیموں نے آدھی رات کو ہی متاثرہ علاقوں کو گھیرے میں لے کر تلاشی کارروائیاں شروع کیں۔ سکیورٹی فورسز نے ممکنہ راستوں، جنگلاتی پٹیوں، پہاڑی علاقوں اور آبادی کے قریبی مقامات پر سخت نگرانی قائم کر دی ہے ۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ علی الصبح آپریشن کو مزید وسعت دی گئی اور بہروٹے گلی سمیت دیگر حساس مقامات پر جارحانہ انداز میں سرچ کارروائی انجام دی جا رہی ہے ۔ فورسز گھر گھر تلاشی، جنگلاتی علاقوں کی کومبنگ اور ممکنہ چھپنے کی جگہوں کی جانچ کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ فرد یا گروہ کا سراغ لگایا جا سکے ۔
حکام کے مطابق سرچ آپریشن انتہائی احتیاط اور منظم حکمتِ عملی کے تحت انجام دیا جا رہا ہے تاکہ مقامی آبادی کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے ۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی ہے جبکہ داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی سخت کر دی گئی ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی گرفتاری کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے ، تاہم فورسز ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے پوری طرح چوکس ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
ادھر جموں صوبے کے ہی کشتواڑ ضلع کے دور افتادہ چھاترو علاقے میں دہشت گردوں کی مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع کے بعد سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر تلاشی اور محاصرے کی کارروائی شروع کر دی ہے ۔
ذرائع کے مطابق مقامی لوگوں نے جنگلاتی علاقے میں چند مشتبہ افراد کی نقل و حرکت دیکھی، جس کے فوراً بعد پولیس کو مطلع کیا گیا، جس پر سکیورٹی ایجنسیوں نے فوری کارروائی عمل میں لائی۔
جموں کشمیر پولیس، فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کی مشترکہ ٹیموں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا۔ آپریشن کے دوران پورے علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ جنگلات، پہاڑی راستوں اور ممکنہ پناہ گاہوں کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی ہے ۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن احتیاط اور حکمتِ عملی کے تحت انجام دیا جا رہا ہے تاکہ مشکوک افراد کو فرار کا کوئی موقع نہ مل سکے ۔ فورسز نے علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی ہے اور ڈرون سمیت جدید نگرانی کے آلات کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے ۔
واضح رہے کہ کشتواڑ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے کئی کامیاب آپریشن انجام دیے ہیں، جن کا مقصد خطے میں امن و امان کو برقرار رکھنا اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے ۔










