وادیٔ کشمیر میں جاری طویل خشک سالی کے خاتمے کا امکان ہے کیونکہ دو مسلسل مغربی خلل (ویسٹرن ڈسٹربنسز) کے باعث ۲۰ سے۲۳ دسمبر (ہفتہ سے منگل) کے دوران جموں و کشمیر میں بارش اور برف باری متوقع ہے۔
کشمیر ویدر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس موسمی تبدیلی سے مرکزِ انتظامیہ میں فضائی معیار اشاریہ (اے کیو آئی) میں نمایاں بہتری آنے کی بھی توقع ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق۱۸؍ اور۱۹ دسمبر کو جموں و کشمیر میں موسم مجموعی طور پر خشک رہے گا تاہم آسمان ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ ۲۰ دسمبر کو بھی موسم زیادہ تر خشک رہنے کی توقع ہے، تاہم کچھ بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری ہو سکتی ہے، خاص طور پر سونہ مرگ دراس محور اور بانڈی پورہ و کپواڑہ کے بالائی علاقوں میں۔
پہلا مغربی خلل ہفتہ کی رات سے خطے کو متاثر کرنا شروع کرے گا، جبکہ دوسرا نظام پیر کے روز اس میں ضم ہو جائے گا اور منگل کی دوپہر تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ بارش اور برف باری کا سلسلہ ہفتہ کی رات سے بالائی علاقوں میں شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ اتوار یا پیر کو سرگرمی عروج پر رہ سکتی ہے۔
اعداد و شمار میں کہا گیا ہے ’’موجودہ تجزیے کے مطابق شمالی کشمیر کے بالائی علاقے، بالخصوص ضلع کپواڑہ، سب سے زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے۔ بلند مقامات پر برف باری ہلکی سے شدید ہو سکتی ہے، جبکہ شدید برف باری کا امکان خاص طور پر کپواڑہ کے بالائی علاقوں میں ہے۔ بانڈی پورہ، گاندربل اور بارہمولہ کے بلند علاقوں میں بھی برف باری پھیل سکتی ہے‘‘۔
مجموعی طور پر، اعداد و شمار کے مطابق موسمی نظام کی شدت ہلکی سے معتدل رہنے کی توقع ہے۔ میدانی علاقوں میں ہلکی بارش متوقع ہے، جبکہ بعض مقامات پر معتدل بارش ہو سکتی ہے۔ نسبتاً زیادہ درجہ حرارت کے باعث میدانی علاقوں میں برف باری کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
سیاحتی مقامات جیسے گلمرگ اور سونہ مرگ میں بھی برف باری متوقع ہے، جہاں ہلکی سے معتدل برف جمع ہونے کے لیے حالات سازگار رہیں گے۔ دوسرا مغربی خلل کپواڑہ کے بالائی علاقوں میں منگل کی دوپہر تک برف باری کے سلسلے کو طول دے سکتا ہے۔ پیر کی رات سے منگل کی صبح تک درجہ حرارت نسبتاً کم رہنے کی توقع ہے، اس لیے اگر اس دوران بارش یا برف باری ہوتی ہے تو خشک برف (ڈرائی اسنو) ممکن ہے، اور کپواڑہ کے قریبی علاقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
جموں خطے میں اس دوران ہلکی سے معتدل بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ مجموعی طور پر بارش یا برف باری زیادہ ہونے کی توقع نہیں ہے، تاہم سرد درجہ حرارت کے باعث۳۲۰۰ میٹر سے زیادہ بلندی والے علاقوں میں خشک برف کی وجہ سے برف کا زیادہ ذخیرہ ہو سکتا ہے۔ فضائی پروازوں پر اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔
فضائی آلودگی کی سطح میں نمایاں کمی آنے کا امکان ہے، جس سے قلیل مدتی راحت ملے گی، جبکہ جنگلاتی آگ کے خطرات میں بھی خاطر خواہ کمی متوقع ہے۔ پیش گوئی میں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں زمینی مشاہدات کی بنیاد پر تازہ معلومات فراہم کی جائیں گی۔
اس دوران وادی کشمیر میں موسم ابر آلود رہنے سے شبانہ درجہ حرارت میں بہتری ریکارڈ ہوئی ہے جس سے لوگوں کو ٹھٹھرتی شبانہ سردیوں سے کسی حد تک راحت نصیب ہوئی ہے ۔
کشمیر ویدر کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت۲ء۰ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی۶ء۱ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
سرینگر میں۲۸نومبر کو رواں ماہ کی اب تک سرد ترین رات ریکارڈ ہوئی تھی جب شبانہ درجہ حرارت منفی۵ء۴ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے سیاحتی مقامات پہلگام اور گلمرگ میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب ۴ء۰ڈگری سینٹی گریڈ اور۶ء۱ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
شمالی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۰ء۱ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت۰ء۸ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی۸ء۰ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی۱ء۰ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی۸ء۱ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی۸ء۰ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، پلوامہ، شوپیاں اور کولگام اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی۳ء۰ ڈگری سینٹی گریڈ‘منفی۲ء۳‘منفی۵ء۱؍
وادی کے ایک اور سیاحتی مقام سونہ مرگ میں کم سے کم درجہ حرارت۱ء۲ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زوجیلا پاس پر شبانہ درجہ حرارت منفی۰ء۱۷ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۴ء۳ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔










