سرینگر/۱۰دسمبر
کشمیر اور جموں خطے میں گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل خشک موسم نے صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے ۔ ۵نومبر سے اب تک جموں و کشمیر میں عملی طور پر کوئی بڑی بارش یا برف باری ریکارڈ نہیں ہوئی، جس کے باعث پورے خطے میں بارش کی مجموعی کمی۸۶فیصد تک جا پہنچی ہے ۔
ماہر موسمیات فیضان عارف کینگ نے یو این آئی کو بتایا کہ یکم نومبر سے۹دسمبر تک جموں و کشمیر میں اوسطاً۱ء۴۳ملی میٹر بارش متوقع تھی، مگر اس پورے عرصے میں صرف۱ء۶ملی میٹرہی بارش ریکارڈ کی گئی ، جو معمول سے نہایت کم ہے ۔
اس غیر معمولی خشک سالی نے نہ صرف موسمیاتی توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے اثرات زمینی سطح پر بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جارہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شدید خشک موسم نے دریاؤں اور جھیلوں کے بہاؤ پر براہِ راست اثر ڈالا ہے ۔
ان کے مطابق’’سنگم پر دریائے جہلم کی سطح۵۹ء۰فٹ تک گر گئی ہے ، جو زیرو گیج لیول سے بھی نیچے ہے ۔ اگرچہ یہ تاریخی طور پر سب سے کم سطح نہیں، مگر حالیہ برسوں میں ریکارڈ شدہ خطرناک حد تک کم ترین سطح ضرور ہے ‘‘۔
کینگ نے خبردار کیا کہ اگر موسم اسی طرح خشک رہا تو نہ صرف پانی کی قلت بڑھے گی بلکہ زرعی سرگرمیوں اور پینے کے پانی کی فراہمی پر بھی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
خشک موسم، سوکھی گھاس اور سطحی درجہ حرارت میں اضافے نے کشمیر کے کئی حصوں میں جنگلاتی آگ کے خطرے میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے ۔
ماہرین کے مطابق نمی کی کمی نے جنگلات کو انتہائی حساس بنا دیا ہے ، اور معمولی چنگاری بھی بڑے پیمانے پر آگ بھڑکنے کا سبب بن سکتی ہے ۔
ادھر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل خشک موسم کے باعث وادی میں مختلف موسمی امراض نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے ۔ ناک، گلے اور جلد کی خشکی، الرجی، دمہ، آنکھوں کی جلن، کھانسی اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔
ڈاکٹروں کے مطابق’’ہوا میں نمی نہ ہونے کی وجہ سے بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ خشک، برفیلی ہوا کے باعث سینے اور گلے کے انفیکشن کے کیسز بھی زیادہ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ موسم میں معمولی تبدیلی بھی صحت پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے ‘‘۔
ڈاکٹروں نے شہریوں کو ماسک کے استعمال، پانی زیادہ پینے اور غیر ضروری طور پر رات کے وقت باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے ۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے سات دنوں میں بھی وادی میں موسم میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے ، جس سے خشک سالی کے اثرات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔
متعلقہ محکموں نے پانی کے ذخائر کی نگرانی، جنگلاتی علاقوں میں الرٹ، اور صحت کے حوالے سے احتیاطی اقدامات پر زور دیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کو کم سے کم رکھا جا سکے ۔یو این آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کشمیر اور جموں خطے میں گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل خشک موسم نے صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے ۔ ۵نومبر سے اب تک جموں و کشمیر میں عملی طور پر کوئی بڑی بارش یا برف باری ریکارڈ نہیں ہوئی، جس کے باعث پورے خطے میں بارش کی مجموعی کمی۸۶فیصد تک جا پہنچی ہے ۔
ماہر موسمیات فیضان عارف کینگ نے یو این آئی کو بتایا کہ یکم نومبر سے۹دسمبر تک جموں و کشمیر میں اوسطاً۱ء۴۳ملی میٹر بارش متوقع تھی، مگر اس پورے عرصے میں صرف۱ء۶ملی میٹرہی بارش ریکارڈ کی گئی ، جو معمول سے نہایت کم ہے ۔
اس غیر معمولی خشک سالی نے نہ صرف موسمیاتی توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے اثرات زمینی سطح پر بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جارہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شدید خشک موسم نے دریاؤں اور جھیلوں کے بہاؤ پر براہِ راست اثر ڈالا ہے ۔
ان کے مطابق’’سنگم پر دریائے جہلم کی سطح۵۹ء۰فٹ تک گر گئی ہے ، جو زیرو گیج لیول سے بھی نیچے ہے ۔ اگرچہ یہ تاریخی طور پر سب سے کم سطح نہیں، مگر حالیہ برسوں میں ریکارڈ شدہ خطرناک حد تک کم ترین سطح ضرور ہے ‘‘۔
کینگ نے خبردار کیا کہ اگر موسم اسی طرح خشک رہا تو نہ صرف پانی کی قلت بڑھے گی بلکہ زرعی سرگرمیوں اور پینے کے پانی کی فراہمی پر بھی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
خشک موسم، سوکھی گھاس اور سطحی درجہ حرارت میں اضافے نے کشمیر کے کئی حصوں میں جنگلاتی آگ کے خطرے میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے ۔
ماہرین کے مطابق نمی کی کمی نے جنگلات کو انتہائی حساس بنا دیا ہے ، اور معمولی چنگاری بھی بڑے پیمانے پر آگ بھڑکنے کا سبب بن سکتی ہے ۔
ادھر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل خشک موسم کے باعث وادی میں مختلف موسمی امراض نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے ۔ ناک، گلے اور جلد کی خشکی، الرجی، دمہ، آنکھوں کی جلن، کھانسی اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔
ڈاکٹروں کے مطابق’’ہوا میں نمی نہ ہونے کی وجہ سے بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ خشک، برفیلی ہوا کے باعث سینے اور گلے کے انفیکشن کے کیسز بھی زیادہ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ موسم میں معمولی تبدیلی بھی صحت پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے ‘‘۔
ڈاکٹروں نے شہریوں کو ماسک کے استعمال، پانی زیادہ پینے اور غیر ضروری طور پر رات کے وقت باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے ۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے سات دنوں میں بھی وادی میں موسم میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے ، جس سے خشک سالی کے اثرات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔
متعلقہ محکموں نے پانی کے ذخائر کی نگرانی، جنگلاتی علاقوں میں الرٹ، اور صحت کے حوالے سے احتیاطی اقدامات پر زور دیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کو کم سے کم رکھا جا سکے ۔یو این آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










