جموں/۱۰دسمبر
جموں کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ میں بدھ کی دوپہر اس وقت ہلچل مچ گئی جب اطلاعات موصول ہوئیں کہ ایک مقامی نوجوان لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرکے پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی جانب چلا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق۲۸ سالہ شاہد خان، رہائشی قصبہ گاؤں، تقریباً ۳ بج کر ۱۵ منٹ پر ایل او سی کے حساس حصے کو پار کرتا دیکھا گیا۔
مقامی حکام نے بتایا کہ شاہد خان کرنی کے سرحدی علاقے میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گیا تھا اور اسی دوران وہ ایل او سی کے قریب پہنچا۔ ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے ندی نما راستے کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان آرمی کی باڈیا پوسٹ تک رسائی حاصل کی۔ یہ راستہ عام طور پر دشوار گزار اور کڑی نگرانی میں ہوتا ہے، جس کے باعث اس واقعے نے حفاظتی اداروں کی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس مرحلے پر یہ واضح نہیں کہ شاہد نے سرحد غلطی سے پار کی یا جان بوجھ کر۔ دونوں امکانات پر بیک وقت تفتیش جاری ہے۔
مقامی پولیس، فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں مل کر اس کی نقل و حرکت، اس کے اہلِ خانہ سے حاصل بیانات، اور شادی کے مقام تک اس کے سفر کی تفصیلات کی جانچ کر رہی ہیں۔
سرحدی علاقوں کے رہائشی اکثر میل جول اور خاندانی تقریبات کے سلسلے میں سرحد کے قریب جاتے ہیں، اور ماضی میں بھی چند افراد غلطی سے حساس لائن عبور کر بیٹھے ہیں۔ تاہم اس واقعے کے وقت، مقام اور طرزِ عمل نے حکام کو مختلف پہلوؤں پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
فوجی حکام نے بتایا کہ پاکستانی حکام سے رابطے کے باضابطہ چینلز کے ذریعے مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ نوجوان کس حالت میں وہاں پہنچا ہے اور اس کے ارادے کیا تھے۔
ادھر گاؤں کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ شاہد ایک عام دیہی شہری ہے اور اس کے حوالے سے کسی منفی سرگرمی کی اطلاع پہلے کبھی سامنے نہیں آئی۔ اہلِ خانہ بھی واقعے سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں اور اس کی جلد واپسی کی امید کر رہے ہیں۔
واقعے پر مزید تفصیلات کا انتظار ہے، اور سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ بیان ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔
جموں کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ میں بدھ کی دوپہر اس وقت ہلچل مچ گئی جب اطلاعات موصول ہوئیں کہ ایک مقامی نوجوان لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرکے پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی جانب چلا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق۲۸ سالہ شاہد خان، رہائشی قصبہ گاؤں، تقریباً ۳ بج کر ۱۵ منٹ پر ایل او سی کے حساس حصے کو پار کرتا دیکھا گیا۔
مقامی حکام نے بتایا کہ شاہد خان کرنی کے سرحدی علاقے میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گیا تھا اور اسی دوران وہ ایل او سی کے قریب پہنچا۔ ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے ندی نما راستے کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان آرمی کی باڈیا پوسٹ تک رسائی حاصل کی۔ یہ راستہ عام طور پر دشوار گزار اور کڑی نگرانی میں ہوتا ہے، جس کے باعث اس واقعے نے حفاظتی اداروں کی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس مرحلے پر یہ واضح نہیں کہ شاہد نے سرحد غلطی سے پار کی یا جان بوجھ کر۔ دونوں امکانات پر بیک وقت تفتیش جاری ہے۔
مقامی پولیس، فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں مل کر اس کی نقل و حرکت، اس کے اہلِ خانہ سے حاصل بیانات، اور شادی کے مقام تک اس کے سفر کی تفصیلات کی جانچ کر رہی ہیں۔
سرحدی علاقوں کے رہائشی اکثر میل جول اور خاندانی تقریبات کے سلسلے میں سرحد کے قریب جاتے ہیں، اور ماضی میں بھی چند افراد غلطی سے حساس لائن عبور کر بیٹھے ہیں۔ تاہم اس واقعے کے وقت، مقام اور طرزِ عمل نے حکام کو مختلف پہلوؤں پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
فوجی حکام نے بتایا کہ پاکستانی حکام سے رابطے کے باضابطہ چینلز کے ذریعے مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ نوجوان کس حالت میں وہاں پہنچا ہے اور اس کے ارادے کیا تھے۔
ادھر گاؤں کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ شاہد ایک عام دیہی شہری ہے اور اس کے حوالے سے کسی منفی سرگرمی کی اطلاع پہلے کبھی سامنے نہیں آئی۔ اہلِ خانہ بھی واقعے سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں اور اس کی جلد واپسی کی امید کر رہے ہیں۔
واقعے پر مزید تفصیلات کا انتظار ہے، اور سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ بیان ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔
ایجنسیز










