لکھنؤ: 9 دسمبر (یواین آئی) وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ اناتھ کی قیادت میں اتر پردیش میں خواتین کے احترام اور بااختیار بنانے کا ایسا ماڈل تیار کیا گیا ہے جہاں تحفظ، عزت اور خود کفالت کے ذریعے خواتین کو ایک نئی سمت مل رہی ہے ۔ ‘مشن شکتی’ ریاست کی خواتین کو مضبوط اور بااختیار بنانے کے مقصد سے قائم ایک مؤثر ماڈل ہے ۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا پیغام ہے کہ ‘ناری شکتی’ ہی ‘راشٹر شکتی’ ہے ۔ 24 دسمبر تک جاری رہنے والی اس مہم کے تحت تمام محکمے روزانہ بیداری پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ پولیس چوپالوں سے لے کر سڑک ریلیوں تک ہر جگہ تحفظ اور احترام، خواتین کے حق کا نعرہ گونج رہا ہے ۔
دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں خواتین بیٹ سسٹم اور اینٹی رومیو اسکواڈ کے ذریعے خواتین کو غیر معمولی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ۔’ پنک پیٹرول’ چوبیس گھنٹے کی دستیابی کے ساتھ اسکولوں، کالجوں اور بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر فوری طورپر پہنچ رہی ہے ۔ تکنیکی وسائل جیسے 1090، سائبر مانیٹرنگ سیل اور ڈیجیٹل ٹریکنگ کے ذریعے اسٹاکنگ اور جعلی اکاؤنٹس پر سخت کارروائی یقینی بنائی جا رہی ہے ۔ کالجوں میں سائبر سکیورٹی ورکشاپس کے ذریعے طالبات کو بااختیار بنایا جا رہا ہے ۔
خواتین سے متعلق جرائم کی تیز اور مؤثر تفتیش کے نتیجے میں متاثرہ خواتین کو فوری انصاف مل رہا ہے اور سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ مشن شکتی مراکز میں تربیت یافتہ افسران کو تین سے پانچ برس تک تعینات کیا جائے گا۔ معاشی بااختیاری کے میدان میں بھی نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے ۔’ بی سی سکھی” اپنی مدد آپ گروپ ‘اور ‘لکھپتی دیدی’ جیسے پروگراموں نے خواتین کو خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ کنیا سومنگلا، اجتماعی شادی اور بے سہارا خواتین پنشن جیسی اسکیموں نے بچیوں اور ضرورت مند خواتین کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں۔
مشن شکتی کے ساتھ ساتھ اجولا اور سواِمتو یوجنا نے گھروں تک بااختیاری کا پیغام پہنچایا ہے ۔ پوشن ابھیان اور’ رانی لکشمی بائی کوش’ نے ماں اور بچے کی صحت کو مزید مضبوط کیا ہے ۔ مشن شکتی 5.0 اتر پردیش میں بااختیار خواتین پر مبنی خوشحال ریاست کی بنیاد بنتا جا رہا ہے ۔










