سرینگر کے سپیشل موبائل مجسٹریٹ شبیر احمد ملک نے ایک شخص کو اپنے نابالغ بیٹے کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے پر تین سال کی قید اور ۲۵ ہزار روپے کے نقد جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
سرینگر کے رہائشی مشتاق احمد کے خلاف اپنی نوعیت کا یہ پہلا فیصلہ سناتے ہوئے مجسٹریٹ نے کہا کہ انھیں جیل میں قیام کے دوران صاف ستھرا برتاؤ کرنے اور پْرامن رہنے کی ضمانت کے طور پر دو لاکھ روپے کا سکیورٹی بانڈ بھی دینا ہوگا۔
جج نے جب مشتاق احمد سے پوچھا کہ ’کیا یہ واقعی حقیقت ہے کہ آپ نے ۱۸ سال سے کم عمر کے اپنے بیٹے کو گاڑی چلانے کی اجازت دی؟‘ تو انھوں نے عدالت میں اقبال جرم کر لیا۔
عدالت نے معاملہ صرف اس مقدمے تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ کشمیر کی اس عدالت نے نابالغوں کو ڈرائیونگ سے باز رکھنے کے لیے سکولوں میں بیداری مہم چلانے کا بھی حکم دیا ہے۔
مفصل فیصلے میں عدالت نے کہا کہ گذشتہ پانچ برس کے دوران سڑک پر ہونے والے حادثات میں پورے انڈیا میں ۸ لاکھ ۱۰ ہزار ۹۱۳؍ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ فیصلے کے مطابق ان حادثوں میں اکثریت ایسے حادثوں کی ہے جن میں ڈرائیورز کم عمر تھے۔
مجسٹریٹ نے کہا کہ ’روڈ سیفٹی کو صرف قانون کے ڈر سے نافذ کرنا ممکن نہیں ہے۔ احتیاط سماج کے اندر سے ایک تحریک کی صورت میں اْبھرنی چاہیے۔ اس لیے محکمہ تعلیم کے سربراہ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس فیصلے کی کاپیاں سبھی سکولوں میں تقسیم کروا کے وہاں باقاعدہ بیداری مہم چلائیں۔‘
کشمیر میں دِیت کا قانون نہیں ہے اور سڑک حادثوں یا ٹریفک ضابطوں کی خلاف ورزی کیلئے ’موٹر ویکلز ایکٹ‘ نافذ ہے جس کے سیکشن ۱۹۹؍اے اٹھارہ سال سے کم عمر کے کسی بھی شخص کا کوئی بھی گاڑی چلانا قانوناََ جرم ہے۔
عدالت نے مشتاق احمد کے کیس کا حوالہ دے کر کہا ’مشتاق کے بیٹے نے ضرور خلاف ورزی کی ہے، لیکن کوئی حادثہ نہیں ہوا اور اس کا کوئی پولیس ریکارڈ بھی نہیں ہے، لہٰذا اسے صرف انتباہ کر کے سزا سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔‘
فیصلے میں تمام والدین اور گاڑیوں کے مالکان کو ہدایت دی ہے کہ اگر وہ نابالغ یا بغیر لائسنس کے اپنے اقربا کو گاڑی دیتے ہیں، تو انھیں اس کے لیے بنیادی قصوروار مانا جائے گا۔
واضح رہے کشمیر میں گذشتہ دہائی کے دوران سڑکوں کا پھیلاؤ اور گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہونے سے سڑک حادثوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ عدالت نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ہر سال اوسطاََ ڈیڑھ سے پونے دو لاکھ افراد سڑک حادثوں میں مارے گئے۔
اس کاکہنا تھا’جب آپ نابالغ بچے کے ہاتھ میں گاڑی دیتے ہیں تو وہ سکولوں، ہسپتالوں اور دوسری بھیڑ باڑ والی جگہوں پر بے تحاشا رفتار سے گاڑی چلاتا ہے۔ اور اعدادوشمار سے بھی ثابت ہے سڑک حادثوں میں اضافہ مائنر ڈرائیونگ کی وبا سے ہی ہوا ہے۔ اس وبا کو ختم کرنا ہوگا۔‘
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اسی مدّت کے دوران کشمیر میں تقریباََ پانچ ہزار افراد سڑک حادثوں میں مارے گئے۔ صرف ۲۰۲۳ میں سڑک حادثوں کی وجہ سے ۸۹۳ ہلاکتیں ہوئیں اور۴۰ ہزار زخمی ہوگئے۔
واضح رہے کہ گذشتہ برس پولیس نے ایک مہم چلائی تھی جس میں پیٹرول سٹیشنوں سے کہا گیا تھا وہ نابالغ ڈرائیورز کو ایندھن فراہم نہ کریں، لیکن یہ مہم چند روز میں ہی ختم ہوگئی۔
تاہم مشتاق احمد کے معاملے میں سپیشل موبائل مجسٹریٹ کا فیصلہ اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے۔جموں کشمیر میں ۲۲ لاکھ۶۶ ہزار چھوٹی اور بڑی گاڑیاں رجسٹر ہیں اور دشوار گزار پہاڑی راستوں پر سڑکوں کی ابتر حالت کے باعث گذشتہ برسوں میں سڑک حادثوں میں اضافہ ہوا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پالیسی سازی اور قانون کا نفاذ حکومت کا کام ہے ’لیکن لوگوں کو بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا اور نابالغ لڑکے اور لڑکیوں کو گاڑی چلانے سے روکنا ہوگا۔ اٹھارہ سال کی عمر کے بعد ہی بچوں کی باقاعدہ تربیت کی جائے اور لائسنس ملنے کے بعد ہی انھیں گاڑی چلانے کی اجازت دی جائے۔‘










