نئی دہلی، 8 دسمبر (یو این آئی) شہری ہوابازی کے مرکزی وزیر کے رام موہن نائیڈو نے پیر کو پارلیمنٹ میں کہا کہ حکومت ملک کے ہوابازی کے شعبے میں مزید ایئرلائنز کے داخلے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور ملک کے تیزی سے بڑھتے ہوئے بازار میں پانچ-چھ بڑی ایئرلائنز کے کام کرنے کے لیے وافر مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے نجی ایئر لائن کمپنی انڈیگو کی پروازوں میں حالیہ بحران کو اس کے ڈیوٹی چارٹ کے داخلہ مسئلے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے اور اگر کوئی غلطی یا کوتاہی پائی گئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔
مسٹر نائیڈو نے راجیہ سبھا میں وقفہ سوال کے دوران شہری ہوابازی کے بازار میں انڈیگو کے تسلط پر ارکان کی تشویش کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے تیزی سے بڑھتے ہوئے ہوابازی بازار میں پانچ-چھ بڑی ایئرلائنز کے کام کرنے کی جگہ ہے اور حکومت نئی ایئرلائنز کے داخلے کو فروغ دے رہی ہے ۔
پرواز کی حفاظت کے حوالے سے کسی بھی معاملے میں سمجھوتہ نہ کرنے کے موقف کو واضح کرتے ہوئے مسٹر نائیڈو نے کانگریس کے پرمود تیواری کے ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ انڈیگو کی خدمات میں خلل کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایئر لائن کے ڈیوٹی روسٹر کی داخلی پیچیدگیوں کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایئر لائنز کو پائلٹوں کے کام اور آرام کے اوقات کے حوالے سے ‘فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمٹ’ کے ہدایتی ضابطے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد طے کیے گئے تھے ۔
اس معاملے میں کل 22 ضابطوں میں سے 15 جولائی میں اور سات یکم نومبر سے نافذ تھے ۔ اس طرح یہ بحران تمام قواعد کے نافذ ہونے کے ایک ماہ بعد شروع ہوا۔ ان قواعد کی پابندی کرتے ہوئے اپنے عملے کے انتظام کی ذمہ داری ایئر لائنز کی تھی۔ پروازیں منسوخ ہونے سے تین دسمبر کو بحران شدت اختیار کر گیا۔ وزیر موصوف نے کہا ”ہم خاموش نہیں بیٹھے ہیں۔ جانچ جاری ہے ، کوئی غلطی یا کوتاہی پائی گئی تو اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔”
وزیر موصوف نے بتایا کہ انڈیگو نے یکم سے سات دسمبر تک کل 5.86 لاکھ ٹکٹ منسوخ کیے اور 569.65 کروڑ روپے کی رقم ریفنڈ کی جا چکی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 21 نومبر سے 7 دسمبر کے درمیان کل منسوخ ٹکٹوں کی تعداد تقریباً 9.56 لاکھ اور ریفنڈ کی گئی رقم 827 کروڑ روپے کے برابر ہے ۔ اس دوران انڈیگو نے مسافروں کے کل 9,000 سامان میں سے 4,500 انہیں پہنچا دیے ہیں۔ باقی بیگ اگلے 36 گھنٹوں میں پہنچانے کا کام جاری ہے ۔
ایوان کو بتایا گیا کہ انڈیگو اپنے گھریلو نیٹ ورک کے 138 میں سے پیر کو 137 مقامات کے لیے 1,802 پروازوں کا آپریشن کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔ آج اس کی 500 پروازیں منسوخ ہوں گی۔
شیوسینا کے ملیند مرلی دیوڑا نے ہندوستانی ہوابازی بازار میں انڈیگو کے تسلط کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گھریلو راستوں پر مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے 60 فیصد بازار حصے داری اسی کے پاس ہے ۔ کیا ریگولیٹر ڈی جی سی اے نے بازار میں مسابقت کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے کوئی تفصیلی مطالعہ کیا ہے اور کیا نئی کمپنیوں کے داخلے میں کوئی رکاوٹیں ہیں؟
اس کے جواب میں مسٹر نائیڈو نے کہا کہ ہندوستانی بازار میں پانچ-چھ بڑی ایئرلائنز کے کام کرنے کی گنجائش ہے ۔ حکومت اس سلسلے میں پہلے سے کوشش کر رہی ہے اور پچھلے پانچ-چھ سال میں کئی نئی علاقائی ایئرلائنز آئیں ہیں اور ”میں چاہتا ہوں کہ مزید ایئرلائنز آئیں۔ یہی وقت ہندوستان کے ہوابازی شعبے میں قدم رکھنے کا موقع ہے ۔”
انہوں نے کہا کہ حکومت نے جہاز کی لیزنگ کو آسان بنانے کے لیے قوانین میں ترمیم کی ہے تاکہ لیزنگ کا کام بیرونِ ملک سے ہندوستان کی جانب آئے ۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک میں ایئرلائنز کے ہوائی جہازوں کے بیڑے میں 80-85 فیصد جہاز لیز پر لیے گئے ہیں۔
اے آئی اے ڈی ایم کے کے تمبی درئی نے سوال کیا کہ جب انڈیگو کے سامنے پروازوں کے آپریشن کا مسئلہ تھا تو اسے ٹکٹ بک کرنے کی اجازت کیسے دی گئی؟
کانگریس کے اکھیلیش پرتاپ سنگھ نے پٹنہ ایئرپورٹ کی رن وے کی توسیع اور وہاں رات کے وقت پروازوں کے بارے میں سوال کیے ۔ شہری ہوابازی کے وزیر نے کہا کہ وہاں رن وے کی توسیع میں زمین کی کمی رکاوٹ بن رہی ہے ۔ ریاستی حکومت سے اس بارے میں بات کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہاں رن وے کے ایک طرف ریل لائن، دوسری طرف جانوروں کا پارک اور تاریخی یادگار ہونے کے سبب زمین دستیاب نہیں ہو رہی ہے ۔










