ہم نہیں جانتے ہیں… بالکل بھی نہیں جانتے ہیں کہ … کہ تاخیر کون کررہا ہے اور کون نہیں … کیوں کررہا ہے اور کیوں نہیں … کیسے کررہا ہے اور کیسے نہیں… ہم یہ سب کچھ نہیں جانتے ہیں… کہ اگر ہم کچھ جانتے ہیں تو… تو یہ ایک بات جانتے ہیں کہ ہزاروں امیدوار مضطرب ہیں … انہیں ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے اور… اور اس لئے ہے کہ آج اتوار کو جے کے اے ایس کے امتحان کا پہلا مرحلہ ہونے جا رہاہے … لیکن اس کالم کو ضبط تحریر میں لانے تک بھی امیدواروں کی عمر کی اوپری حد میں رعایت دینے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے… بالکل بھی نہیں کیا گیا ہے… فائل ایک دفتر سے دوسرے دفتر چکر لگا رہی ہے… گھوم پھر رہی ہے… لیکن… لیکن حتمی فیصلہ نہیں لیا جارہا ہے… معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے… دانستہ طور پر ہو رہا ہے یا غیر دانستہ طور پر … اگر حکومت … منتخبہ حکومت عمر کی حد میں رعایت دینے میں اتنی ہی فراخ دل تھی تو … تو اس منظوری میں تاخیر کیوں کی… فائل بھیجنے میں تاخیر کیوں کی … اور اگر تاخیر سے ہی سہی ایل جی کے دفتر میں فائل پہنچی تو وہاں بھی فیصلہ لینے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے جبکہ کئی برسوں سے … یا کچھ برسوں سے امیدواروں کی عمر کی حد میں رعایت دی جاتی رہی ہے… تو اب کی بار اس میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ صاحب ہم کسی کی تنقید نہیں کررہے ہیں… بالکل بھی نہیں کررہے ہیں… ہم کسی پر فائل پر بیٹھنے کا الزام بھی نہیں لگا رہے ہیں کہ… کہ ہم میں اتنی ہمت ہے اور نہ جرأت… بات جو بھی ہے‘ خطا جس کسی کی بھی ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ خطا کسی کی بھی نہ ہو… لیکن…لیکن صاحب سزا تو امیدواروں کو مل رہی ہے… تلوار تو ان کے مستقبل پر لٹک رہی ہے …غیر یقینی صورتحال کا تو انہیں سامنا ہے… کسی اور کو نہیں… سی ایم صاحب اور نہ محترم ایل جی صاحب کو… ہم تو صاحب صرف اتنا ہی چاہتے ہیں … صرف اتنا کہ یہ جو غیر یقینی صورتحال ہے اسے ختم کیا جائے … رعایت دینی ہے تو دی جائے اور نہیں دینی ہے تو نہ دیجئے … جو بھی فیصلہ کرنا ہے کیجئے … خدا را بغیر کسی تاخیر کے کیجئے کہ … کہ فیصلے میںتاخیرکی سزا اُن کو مل رہی ہے جن کی کوئی خطا نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے ۔ ہے نا؟




