سرینگر/۲دسمبر
منگل کو پارلیمان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری ٹکراو
¿ اس وقت ختم ہوا جب دونوں فریق اس بات پر متفق ہو گئے کہ قومی گیت وندے ماترم اور انتخابی اصلاحات پر الگ الگ مباحثے کیے جائیں گے۔
انتخابی اصلاحات کی بحث میں اپوزیشن کو اس حساس معاملے کو ا
±ٹھانے کی اجازت ہوگی، یعنی انتخابی فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) ‘جو الیکشن کمیشن (ای سی) اس وقت نو ریاستوں اور تین مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں کر رہا ہے۔
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی جانب سے بلائی گئی کل جماعتی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایوان اگلے ہفتے کے آغاز میں وندے ماترم کی۰۵۱ویں سالگرہ اور انتخابی اصلاحات پر الگ الگ مباحثے کرے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی۸ دسمبر کو لوک سبھا میں وندے ماترم پر جاری ہونے والی روز بھر کی بحث کا آغاز کریں گے،جب کہ ۹اور ۰۱ دسمبر کو ایوان انتخابی اصلاحات پر بحث کرے گا۔
کل جماعتی میٹنگ کے فوراً بعد ہونے والی لوک سبھا کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) نے دونوں مباحثوں کے لیے دس/دس گھنٹے مختص کیے ہیں۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ امیت شاہ انتخابی اصلاحات پر ہونے والی بحث میں مداخلت کر سکتے ہیں،اور وزیر قانون و انصاف ارجن رام میگھوال اس بحث کا جواب دیں گے۔یہ بھی بتایا کہ راجیہ سبھا بھی اگلے ہفتے انہی دو موضوعات پر اسی طرز کا شیڈول اختیار کرنے کا امکان رکھتی ہے۔
ایک سرکاری ذریعے کے مطابق”جیسے ہی یہ بحث لوک سبھا میں مکمل ہوگی، ایوانِ بالا اسے اپنے ایجنڈے میں شامل کر لے گا“۔
اس سے پہلے لوک سبھا میں منگل کو ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر بحث کرانے کے مطالبے پر اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث کوئی کام کاج نہیں ہو سکا اور ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
دو بار ملتوی ہونے کے بعد ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان اسپیکر کے قریب پہنچ کر نعرے بازی کرنے لگے ۔
اس دوران پریذائیڈنگ آفیسر دلیپ سیکیّہ نے کہا کہ ایوان بحث کے لیے ہے ، جو بھی مسئلہ ہے اس پر بحث کرائی جائے گی اور آپ کو اس میں حصہ لینے کا موقع بھی ملے گا۔ انہوں نے کہا”ملک کے عوام ایوان کی کارروائی کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ ایک ذمہ دار اپوزیشن ہیں اس لیے اپنی جگہ پر بیٹھیں اور ایوان کو چلانے میں تعاون کریں۔ یہ طریقہ عوام پسند نہیں کرتی ہے ۔ آپ لوگ بار بار منظم طریقے سے ایوان کو روک رہے ہیں“۔
سیکیّہ نے کہا کہ ایس آئی آر کے مسئلے پر ہنگامہ کیا جا رہا ہے جبکہ بہار میں ایس آئی آر ہوا اور آپ نے نتیجہ دیکھا۔ بہار کے عوام نے ایس آئی آر کی حمایت کی ہے ۔ پریذائیڈنگ آفیسر کے بار بار اصرار کرنے کے باوجود اپوزیشن ارکان کا ہنگامہ جاری رہا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
ایک بار ملتوی ہونے کے بعد جب ایوان کی کارروائی بارہ بجے دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان نے ایس آئی آر کے مسئلے پر پھر شور مچانا شروع کر دیا۔ پریذائیڈنگ آفیسر پی سی موہن نے ہنگامے کے دوران ہی ضروری کاغذات ایوان کے سامنے رکھے ۔
اسی دوران پارلیمانی امور کے وزیر کرین رِجِیجُو نے کہا کہ حکومت انتخابی اصلاحات سمیت تمام مسائل پر اصولوں کے مطابق بحث کرانے کے لیے تیار ہے ۔ وہ اپوزیشن پارٹیوں کے رہنما
¶ں کے رابطے میں ہیں، انہیں بات چیت کے لیے بلایا گیا ہے ۔ اپوزیشن پارٹیوں کے رہنما ¶ں سے بات چیت کر کے اس کا کوئی راستہ نکالا جائے گا اس لیے اپوزیشن ممبران کو اپنی اپنی جگہ پر جا کر ایوان کی کارروائی کو بہ سہولت چلنے دینے میں تعاون کرنا چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ممبران کو ٹھنڈے دماغ سے بحث میں شامل ہونا چاہیے ۔ ملک میں کئی مسائل ہیں ان پر بحث ہونی چاہیے ۔ وہ کسی بھی مسئلے کو چھوٹا یا بڑا نہیں مانتے ۔ صرف ایک مسئلے کی وجہ سے تمام مسائل کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔ ایوان میں کئی چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے ایک یا دو ارکان ہیں، ان کی بھی بات سننی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان کو انتخابی ہار کی بھڑاس یہاں نہیں نکالنی چاہیے ۔ انتخابات میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی بھی الیکشن ہارے تھے لیکن انہوں نے کبھی اس طرح کا رویہ نہیں اپنایا۔
رِجِیجُو نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے مسلسل اس طرح کا رویہ اپنانے سے وہ عوام کا اعتماد کھو دیں گے ۔
تاہم اپوزیشن ارکان پر مسٹر رِجِیجُو کے اصرار کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے بعد موہن نے بھی اپوزیشن ارکان سے اپنی اپنی جگہ پر جا کروقفہ
¿ صفر کی کارروائی چلنے دینے کی درخواست کی لیکن کانگریس، سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نعرے لگاتے ہوئے ہنگامہ کرتے رہے ۔ کئی ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ کر بھی شور مچا رہے تھے ۔
اس پر موہن نے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔ اس سے پہلے آج صبح ۱۱بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی مسٹر بِرلا نے خصوصی گیلری میں بیٹھے جارجیا کے وفد کے بارے میں ایوان کو مطلع کیا۔ بِرلا نے ہنگامے کے دوران وقفہ
¿ سوالات کو چلانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ممبران جس طرح کا رویہ ایوان میں اپنا رہے ہیں اور ایوان کے باہر پارلیمنٹ کے لیے جس طرح کی زبان استعمال کی جا رہی ہے وہ ملک کے حق میں ٹھیک نہیں ہے ۔
ندائے مشرق ویب ڈیسک










