سرینگر/یکم دسمبر
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز کہا کہ اگر۱۹۴۷ میں سردار ولبھ بھائی پٹیل نے جموںکشمیر کے انضمام کی نگرانی کی ہوتی تو جموں کشمیر کی تاریخ’بالکل مختلف‘ ہوتی۔
سنہا وڈودرا میں منعقد’یونیٹی مارچ‘ میں شامل ہوئے جہاں انہوں نے پٹیل کے متحدہ بھارتی یونین کی تشکیل میں کردار کو اجاگر کیا۔
’کشمیر، حیدرآباد اور سردار‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے ایل جی نے کہا کہ ریاستی راجوں کے انضمام میں پٹیل کی قیادت‘خصوصاً حیدرآباد‘ان کے ’واضح مقصد اور مضبوط عمل‘ کی علامت تھی، ایسی خوبیاں جنہیں انہوں نے ایک متحدہ بھارت کی تشکیل کیلئے ناگزیر قرار دیا۔ سنہا نے کہا کہ اگر ۱۹۴۷ میں پٹیل کو جموں و کشمیر کے مکمل انضمام کی ذمہ داری دی گئی ہوتی تو اس کی تاریخ ’بالکل مختلف‘ رخ اختیار کرتی۔
سنہا نے کہا’’سردار پٹیل نے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے جموں و کشمیر سے متعلق رویے کی سخت مخالفت کی تھی اور وہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ لے جانے کے بھی خلاف تھے۔ ان کی فیصلہ کن مداخلت تاریخ کا رخ بدل دیتی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پٹیل نے جموں کشمیر کا کوئی علاقہ پاکستان کو دینے کے کسی بھی امکان کو’صاف لفظوں میں مسترد‘کر دیا تھا۔
ایل جی نے سردار پٹیل کو’جدید بھارت کا معمار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد، مساوات اور سماجی انصاف کے لیے ان کی وابستگی آج بھی ملک کے سماجی و سیاسی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹیل ’’خود اعتمادی، خود احترام اور اخلاقی جرأت کی علامت تھے…وہ قدریں جو بھارت کی استحکام اور ترقی کی کوششوں کے لیے آج بھی ضروری ہیں‘‘۔
پٹیل کی وراثت کو موجودہ طرز حکمرانی سے جوڑتے ہوئے سنہا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی پٹیل کے وڑن کو عملی شکل دے رہے ہیں۔ان کاکہنا تھا’’آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی سے ایک ملک، ایک آئین اور ایک رہنما کے دیرینہ قومی عزم کو حقیقت بنایا گیا‘‘۔
سنہا نے مرکزی حکومت کی کئی اہم اسکیموں…جیسے ون نیشن، ون ٹیکس؛ ون نیشن، ون راشن کارڈ؛ ون نیشن، ون ہیلتھ کارڈ؛ ون نیشن، ون گرڈ؛ قومی تعلیمی پالیسی؛ پی ایم گتی شکتی؛ اور کاشی تمل سنگم کا بھی حوالہ دیا اور انہیں ایسے تغیراتی اقدامات قرار دیا جو ملک کی ادارہ جاتی اور ثقافتی وحدت کو مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
نئی نسل کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے قومی یکجہتی کے تین’اہم ستونوں‘ پر زور دیا: مشترکہ اقدار، مشترکہ شناخت اور مشترکہ مقصد۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے عشروں میں بھارت کی ترقی برقرار رکھنے کیلئے ان ستونوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
یونیٹی مارچ جو سردار پٹیل کی۱۵۰ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے، میں سول سوسائٹی گروپوں، تعلیمی اداروں اور پٹیل خاندان کے افراد نے شرکت کی۔ منتظمین نے اسے نوجوان بھارتیوں کو ملک کی انضمام اور وفاقی ہم آہنگی کی بنیاد رکھنے والی تاریخی داستان سے دوبارہ جوڑنے کی ایک کوشش قرار دیا۔ویب ڈیسک
ویب ڈیسک










