نئی دہلی/ یکم دسمبر
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کہا کہ ایوان میں ’ڈراما‘ نہیں ہونا چاہیے اور زور دیا کہ توجہ پالیسی سازی پر ہونی چاہیے، نہ کہ نعرے بازی پر۔
پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا’’یہ سرمائی اجلاس صرف ایک رسم نہیں، بلکہ قوم کو تیز رفتار ترقی کی طرف لے جانے کی کوششوں میں نئی توانائی شامل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ بھارت نے جمہوریت کو جی کر دکھایا ہے اور جمہوری عمل کیلئے اپنے جوش و خروش کا اظہار کیا ہے‘جو جمہوریت پر اعتماد کو مضبوط کرتا ہے‘‘۔
مودی نے کہا کہ دنیا بھارت کی جمہوری پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہی ہے اور ملک نے ثابت کر دیا ہے کہ ’جمہوریت نتائج دے سکتی ہے‘۔
وزیر اعظم نے مزید کہا’’گزشتہ چند دنوں میں بہار کے انتخابات میں زبردست ووٹر ٹرن آؤٹ جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت امید اور اعتماد کی لہر پیدا کرتی ہے۔ دنیا جمہوری اور معاشی نظام کی طاقت کو قریب سے دیکھ رہی ہے۔ بھارت نے ثابت کیا ہے کہ جمہوریت نتائج دے سکتی ہے‘‘۔
مودی نے کہا’’جس رفتار سے بھارت کی معاشی حیثیت نئی کامیابیاں حاصل کر رہی ہے، وہ نہ صرف ہمیں وکست بھارت کے عزم پر یقین دلاتی ہے بلکہ اسے پورا کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے‘‘۔
اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا’’اس اجلاس میں توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ پارلیمنٹ کیا سوچ رہی ہے، کیا کرنا چاہتی ہے اور قوم کے لیے کیا کرے گی۔ اپوزیشن کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اور شکست کے بعد کی اداسی سے باہر آ کر سوال اٹھانے چاہئیں۔ بدقسمتی سے چند سیاسی جماعتیں اپنی شکست کو ہضم نہیں کر پا رہی ہیں‘‘۔
یہ تبصرے ایسے وقت میں آئے ہیں جب اپوزیشن پہلے ہی اس بات پر ناراضی ظاہر کر رہی ہے کہ حکومت نے مبینہ طور پر مختصر دورانیے کی بحث یکطرفہ طور پر طے کی ہے۔ مانسون اجلاس بھی بہار میں اسپیشل انٹینسیو ریویو (ایس آئی آر) عمل پر احتجاج کی وجہ سے کم کارکردگی والا رہا تھا۔
بہار اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا’’میں نے سوچا تھا کہ چونکہ بہار کے انتخابات کو کچھ دن گزر چکے ہیں، حالات بدل چکے ہوں گے۔ لیکن میں نے ان کی بیان بازی سنی اور اب ایسا لگتا ہے کہ ان کی شکست ابھی بھی انہیں پریشان کر رہی ہے‘‘۔
وزیر اعظم مودی نے زور دے کر کہا کہ سرمائی اجلاس میں’’شکست کی جھنجھلاہٹ کو مرکزِ نگاہ نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی یہ فتح کے غرور میں بدلنا چاہیے’’، اور کہا، ‘‘عوامی نمائندوں کے طور پر ہمیں ملک کے باشندوں کی ذمہ داریوں اور توقعات کو توازن کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے۔ یہ مشکل کام ہے، لیکن ہمیں اسے کرنا ہوگا‘‘۔
مودی نے پہلی بار منتخب ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کی زیادہ شمولیت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا، ‘‘جو لوگ پہلی بار منتخب ہوئے ہیں یا ابھی نوجوان ہیں، وہ خوش نہیں کیونکہ وہ خود کو عوامی نمائندوں کی حیثیت سے متعارف نہیں کرا پا رہے، اپنے علاقوں کے مسائل پیش نہیں کر پا رہے اور یہاں تک کہ ملک کی ترقی کے حق میں بات کرنے پر بھی روکے جا رہے ہیں۔ ہمیں ان نئے ارکان کو اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع دینا چاہیے‘‘۔
پارلیمنٹ میں ہنگامہ اور نعرے بازی کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، ’’ڈراما کرنے کیلئے بہت جگہیں ہیں؛ جو کرنا چاہتا ہے وہ وہاں کرے۔ یہاں ڈراما نہیں، کارکردگی ہونی چاہیے۔ نعروں کے لیے پورا ملک موجود ہے؛ جہاں چاہیں نعرے لگائیں؛ جہاں آپ ہارے، وہاں لگائے؛ اب وہاں بھی لگائیں جہاں آپ ہاریں گے۔ لیکن یہاں توجہ پالیسی پر ہونی چاہیے، نعروں پر نہیں‘‘۔
وزیر اعظم نے مزید کہا’’سیاست میں منفی سوچ شاید کام آ جائے، لیکن قوم سازی کیلئے مثبت سوچ ضروری ہے۔ مجھے امید ہے آپ منفی سوچ کو حدود میں رکھیں گے اور قوم سازی پر توجہ دیں گے‘‘۔
مودی نے کہا’’گزشتہ چند اجلاسوں سے پارلیمنٹ کا استعمال انتخابی تیاریوں یا شکست کی جھنجھلاہٹ کے اظہار کے لیے کیا جا رہا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ کچھ جماعتیں جو کچھ ریاستوں میں اقتدار میں ہیں، عوامی غصے اور اینٹی انکمبنسی کی وجہ سے وہاں جانے کی بھی ہمت نہیں کرتیں… ان سیاسی جماعتوں کو اس پر غور کرنا چاہیے‘‘۔
وزیر اعظم نے راجیہ سبھا کے نو منتخب چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد بھی دی۔ایجنسیز










