’ہم لوگوں کی امیدوں اور خواہشات کو پورا کرنے کیلئے پرعزم ہیں تاکہ مناسب سہولیات اور نئے مواقع فراہم ہوں‘
سرینگر/۲۹ نومبر
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر ‘ منوج سنہا نے کہا ہے کہ ایک نیاجموں کشمیرتشکیل دیا گیاہے جہاں قوی ارادے اور نئی توانائی کے ساتھ تعمیرو ترقی کو رفتار دی جا رہی ہے ۔
سنہا نے ہفتہ کو رامبن اور ادھمپور میں حالیہ قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں کیلئے نئے گھروں کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا۔
بعد ازاں ایک عوامی اجتماع سے خطاب میںایل جی نے کہا کہ ۲۰۱۹ کے بعد ہم نے نئی توانائی کے ساتھ نئے جموں و کشمیر یو ٹی کی تعمیر کو رفتار دینے کا کام کیا ہے۔’’گزشتہ ۵ برسوں میں ایک مضبوط بنیاد رکھی گئی ہے اور پائیدار ترقی اور انفرادی ترقی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ہم لوگوں کی امیدوں اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’قوی ارادے کے ساتھ ہم نے ایک نیا جموں و کشمیر یو ٹی تشکیل دیا ہے جو قدیم ثقافت کے وقار اور ۲۱ویں صدی کے جدید انفراسٹرکچر پر فخر کرتا ہے۔ ہم نے ایسا جموں و کشمیر بنایا ہے جو غریبوں، قبائلیوں، کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کو مناسب سہولیات اور نئے مواقع فراہم کرتا ہے‘‘۔
ایل جی نے گزشتہ پانچ برسوں میں رامبن اور ادھمپور کی تیز رفتار اور تبدیلی لانے والی ترقی کا بھی ذکر کیا اور انتظامیہ کی مساوی ترقی کے عزم کو اجاگر کیا۔
سنہا نے کہا’’ہمارا مقصد یہ تھا کہ ترقی کے فوائد آخری فرد تک پہنچیں۔ انفراسٹرکچر منصوبے تیزی سے مکمل کیے گئے اور تمام طبقات کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے اسکیمیں نافذ کی گئیں‘‘۔
ایل جی نے یہ بھی بتایا کہ حکومتِ ہند نے پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی۴) کے تحت رامبن کیلئے۳۵۵ کروڑ روپے اور ادھمپور کیلئے۵۱ء۳۲۸ کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جو اہم سڑک منصوبوں کی تکمیل کے لیے رکھے گئے ہیں، تاکہ دور دراز آبادیوں کو رابطہ فراہم کیا جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے سیلاب متاثرہ خاندانوں کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے اس عظیم اقدام پر ایچ آر ڈی ایس انڈیا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی کہ تمام مستحق مستفیدین کو شامل کیا جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’میں ذاتی طور پر یقینی بناؤں گا کہ ہر غریب متاثرہ خاندان کے سر پر چھت ہو‘‘۔
پہلے مرحلے میں، یونین ٹیریٹری میں مجموعی طور پر۱۵۰۰ گھر تعمیر کیے جائیں گے، جو حالیہ قدرتی آفات اور آپریشن سندور کے دوران پاکستانی شیلنگ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے ہوں گے۔ تعمیراتی کام سنگِ بنیاد رکھنے کے آغاز سے چھ ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ مضبوط، آرام دہ اور زیادہ لچکدار پری فیبریکیشن تکنیک کا استعمال کیا جائے گا۔
ایچ آر ڈی ایس انڈیا آئندہ ۱۵ برسوں تک تمام خاندانوں کے افراد کو مفت لائف انشورنس فراہم کرے گا۔ خاندان کے تمام افراد کا ہر سال مفت ہیلتھ چیک اپ بھی کیا جائے گا۔ گھروں میں مویشیوں کے شیڈ جیسی سہولیات بھی شامل ہوں گی۔ ایچ آر ڈی ایس انڈیا آئندہ ۵ سال تک گھروں کی دیکھ بھال بھی کرے گا۔ آپریشن سندور اور قدرتی آفت سے متاثرین کی بڑے پیمانے پر شمولیت اس اقدام کو تاریخی بناتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ضلع انتظامیہ، پولیس، فوج، سی اے پی ایف، ڈیزاسٹر رسپانس فورسز، ایمرجنسی ریسپانڈرز، شری ماتا ویشنوی دیوی شائن بورڈ، جے اینڈ کے بینک، سول سوسائٹی کے ارکان، رضاکاروں اور امدادی و بچاؤ کارروائیوں میں شامل تمام افراد کی بھی تعریف کی۔
سنہا نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں یو ٹی انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا کہ سماجی عدم توازن اور تفاوت کو ختم کر کے سماجی و معاشی انصاف یقینی بنایا جائے اور جموں و کشمیر کا مستقبل محفوظ بنایا جائے۔
رامبن میں مکمل طور پر تباہ شدہ۱۸۹ گھروں کی تعمیر ۱۸کروڑ روپے کی لاگت سے کی جائے گی۔ ادھمپور میں۳۴۱ مکمل طور پر تباہ گھروں کی تعمیر۳۴ کروڑ روپے کی لاگت سے ہوگی۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے ان نئے تین بیڈروم والے پری فیبرکیٹڈ اسمارٹ ہاؤسز کی تعمیر کی تمام لاگت ہائی رینج رورل ڈیولپمنٹ سوسائٹی (ایچ آر ڈی ایس انڈیا) برداشت کرے گی۔
رامبن میں۱۳ شہدا کے لواحقین کو سرکاری نوکریاں فراہم کی گئیں، اور باقی اہل خاندانوں کو جلد تقرریاں ملیں گی۔










