سرینگر/۲۸ نومبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ حالیہ دنوں میں کی گئیں انہدامی کارروائیاں منتخب حکومت کی معلومات یا منظوری کے بغیر انجام دی گئی ہیں اور یہ عوام کے ذریعے منتخب کردہ انتظامیہ کو شرمندہ اور کمزور کرنے کی ’سوچی سمجھی سازش‘ ہے۔
جمعہ کوصحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ راج بھون کے مقرر کردہ افسران متعلقہ وزیر سے مشورہ کیے بغیر یا منتخب حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر بلڈوزر استعمال کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں واضح طور پر اس کوشش کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عوام کے ذریعے منتخب حکومت کو ’شرمندہ اور کمزور‘کیا جائے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ ہر محکمے کے فیلڈ اسٹاف کی تعیناتی حکومت کی منظوری سے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا’’کمشنر سیکریٹری اور پرنسپل سیکریٹری تک ٹھیک ہے، لیکن ترقیاتی اداروں کے سی ای اوز اور ریونیو اسٹاف کی تقرری منتخب حکومت کو کرنی چاہیے۔ بدقسمتی سے افسران بغیر کسی مشاورت کے تعینات کیے جا رہے ہیں اور وہ کہیں اور سے آنے والی ہدایات پر عمل کرتے ہیں‘‘۔
عمرعبداللہ نے الزام لگایا کہ یہ افسران خود ہی بلڈوزر نکال رہے ہیں اور من مانے انداز میں منتخب شدہ انہدامی کارروائیوں کا آغاز کر رہے ہیں۔انہوں نے اسے ’منصوبہ بند سازش‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کے ذریعے ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تحت حالیہ انہدامی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ اگر اصل مسئلہ غیرقانونی قبضہ ہے تو صرف ایک شخص کو ہی نشانہ کیوں بنایا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے جموں میں مبینہ غیرقانونی قبضے میں موجودجے ڈی اے کی تمام اراضی کی مکمل فہرست طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا’’میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ صرف اسی فرد کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ کیا اس کی مذہبی شناخت وجہ ہے؟ یہ ممکن نہیں کہ پورے جموں میں صرف ایک ہی پلاٹ پر غیرقانونی قبضہ ہو‘‘۔
عمرعبداللہ نے یہ بھی کہا’سرکاری کام میں مداخلت نہ کرنے‘کے دعوے کو ایسی یکطرفہ کارروائیاں خود ہی غلط ثابت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا’’مجھے ایک بھی فائل دکھا دیں جس میں وزیر کو بلڈوزر نکالنے سے پہلے اطلاع دی گئی ہو۔ نہ کوئی اجازت لی گئی، نہ کوئی مشاورت ہوئی‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ سرکاری اراضی پر غیرقانونی قبضے کی حمایت نہیں کرتے لیکن نام نہاد انسدادِ تجاوزات مہم میں استعمال کی جانے والی ’چْن چُن کر کارروائی‘ کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا’’اگر ہمارے کسی افسر نے اجازت کے بغیر ایسا کیا ہوتا تو میں فوراً کارروائی کرتا۔ آخر اتنا بڑا قدم وزیر کی منظوری کے بغیر کیسے اٹھایا جا سکتا ہے؟‘‘
بار بار ہونے والی منتخب انہدامی کارروائیوں کو مشکوک قرار دیتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ اس انداز کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا’’اگر یہ ایک یا دو بار ہوتا تو میں اسے غلطی سمجھ لیتا، مگر مسلسل واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ منتخب حکومت کو بدنام کرنے کی سازش ہے کیونکہ کچھ لوگ انتخابی نتائج کو قبول نہیں کر پا رہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ جے ڈی اے کا سی ای او جموں کی تمام تجاوزات کی فہرست شائع کرے۔ انہوں نے کہا’’فہرست اخبارات میں شائع کی جائے۔ عوام دیکھیں کہ کن کن لوگوں کے نام ہیں‘‘۔
عمرعبداللہ نے الزام لگایا کہ ایک مخصوص کمیونٹی اور چند خاص علاقوں کو نشانہ بنانا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ’یہ صرف اور صرف سیاسی سازش ہے‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ غیرقانونی قبضوں سے نمٹنا ضروری ہے، مگر طریقہ کار شفاف، یکساں اور امتیاز سے پاک ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا’’یہ قانون کا مسئلہ نہیں، بلکہ تعصب پر مبنی چنیدہ کارروائی کا معاملہ ہے۔ندائے مشرق خبر‘‘










