جموں/۲۸ نومبر
’’شاعر اور ادیب اتحاد کو مضبوط کریں اور کشمیر وادی میں نوجوانوں کو تقسیم اور انتہا پسندی کی طرف دھکیلنے کی کوششوں کا مقابلہ کریں‘‘۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو کہا۔
سنہا پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ کے زیرِ اہتمام ’کوی سمیلن‘سے جموں یونیورسٹی کے جنرل زورآور سنگھ آڈیٹوریم میں خطاب کر رہے تھے۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے قوم سازی میں ادب کے کردار کو اْجاگر کیا۔ انہوں نے شاعروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی اظہاریت کے ذریعے مضبوط قومی شناخت بنائیں اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ہمیں علاقائی ادب کے فروغ پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ اس کی صلاحیت کو سماجی ہم آہنگی اور قومی طاقت کے لیے مکمل طور پر بروئے کار لایا جا سکے‘‘۔
سنہا نے زور دیا کہ ایک خود کفیل اور ترقی یافتہ بھارت کے لیے آرٹ اور مصنوعی ذہانت، سائنس اور سنسکار…سبھی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادب، موسیقی اور شاعری جمہوری قدروں کو مضبوط کرتی ہیں اور معاشرے کو ضروری ثقافتی و روحانی غذا فراہم کرتی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’شاعری نہ صرف سماجی شعور کی بنیاد ہے، بلکہ معاشرے کے عزم کی چوٹی بھی ہے۔ شاعری خوابوں اور ان کی تکمیل کے درمیان پْل کا کام کرتی ہے۔ یہ فرد کی نشوونما کا محرک اور سماجی تبدیلی کی تحریک بھی ہے‘‘۔
سیل جی نے یونین ٹیریٹری انتظامیہ کی ان کلیدی پہلوں پر بھی روشنی ڈالی جو وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں جموں و کشمیر کی قدیم ادبی روایت اور ثقافتی وراثت کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔
سنہا نے کہا’’گزشتہ پانچ سال جموں و کشمیر کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئے ہیں۔ ہم نے نئی نسل کیلئے محفوظ اور ثقافتی طور پر پْر رونق ماحول فراہم کرنے کیلئے بھرپور کوشش کی ہے‘‘۔
تقریب کا سب سے دلکش حصہ ممتاز شاعر ڈاکٹر کمار وشواس کی شاندار نظم خوانی رہی۔
پروگرام میں معروف شعرا سدِیپ بھولا، رمیش مسکان، پدمِنی شرما اور کْشل کشلیندر نے بھی پراثر کلام سنایا۔
تقریب میں پاور گرڈ کے نارتھ ریجن ٹرانسمیشن سسٹم ٹو کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ترن بجاج، یونیورسٹی آف جموں کے وائس چانسلر پروفیسر امیش رائے، پاور گرڈ کے چیف جنرل مینیجر (پروجیکٹس) ایس کے چوہان، ڈویڑنل کمشنر جموں رمیش کمار، میونسپل کمشنر جموں ڈاکٹر دیونش یادو، سینئر افسران، نمایاں شہری شخصیات، ادبی حلقے اور بڑی تعداد میں نوجوان موجود تھے۔
ڈی آئی پی آر










