ہمیں نہیں معلوم اور بالکل بھی نہیں معلوم ہے کہ کون سچ کہہ رہا ہے اور جھوٹا کون ہے… لیکن ایک بات جو ہمیں معلوم ہے وہ یہ ہے کہ سیاست میں کسی کو مارنے کی جھوٹی خبر پھیلانے کا مقصد اسے سیاسی طور پر زندہ رکھنا ہو تا ہے… اور شاید اُس پار ہمسایہ ملک میں ایسا ہی کچھ ہو رہا ہے… یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عمران خان کو سچ میں مارنے کا کوئی منصوبہ ہو … اور اس کی ہلاکت کی ’جھوٹی‘ خبر کا مقدس لوگوں کا ردعمل دیکھنا ہو … سیاست میں یوں تو کچھ بھی ممکن ہے… لیکن جب بات اُس پار ہمسایہ ملک کی ہو تو… تو صاحب وہاں کچھ بھی ممکن ہے… وہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے… یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے لیڈر ‘ عمران خان کی جیل میں ہلاکت کی جھوٹی خبر پھیلا رہی ہو تاکہ حکومت پر ‘ فوج پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ خان صاحب کورہاکرے یا پھر انہیں جیل میں جس قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اس سے انہیں کچھ راحت مل جائے … لیکن جناب یہ بھی تو ممکن ہے کہ فوج اور اس کی کٹھ پتلی حکومت خان صاحب کے ساتھ واقعی میں کچھ کرنا چاہتی ہو… اس لئے کرنا چاہتی ہو کہ … کہ اب تو یہ بات ثابت ہو ہی گئی کہ… کہ خان صاحب کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے سے وہ سب کچھ حاصل نہیں ہوا جو حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی… کہ خان صاحب جھکے اور نہ بکے … اور ان کی جماعت بھی برابر قائم و دائم ہے … لیکن … لیکن صاحب بات خان صاحب کی نہیں ہے… آج خان صاحب ہیں ‘ کل کوئی اور صاحب ہو گا… آج خان صاحب کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے کل کو یہ جناب کسی سے نا انصافی کریں گے … یہ جناب انتقام لیں گے… ہمسایہ ملک کی تاریخ … گزشتہ ۷۸ برسوں کی تاریخ انہی واقعات سے بھر ی پڑی ہے…موقع ملتے ہی سیاستدان اور فوجی جنرل … انتقام لیتے ہیں یا پھر اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے کوئی بھی ہتھکنڈا بروئے کار لاتے ہیں… جیسے اب کی بار ہوا … ۲۷ ترمیم کی شکل میںہوا … ہمسایہ ملک یونہی اپنا وقت ‘ اپنی توانا ‘ اپنے وسائل ضائع کررہا ہے اور کرے گا اور… اور لوگوں وہاں کے لوگوں کے جو مسائل ہیں… وہ جہاں پہلے تھے آج بھی وہیں ہیں ۔ ہے نا؟




