جموں و کشمیر میں حالیہ دنوں میں مکانوں پر بلڈوزر چلانے کی کارروائی نے عوامی بے چینی کو شدید تر کر دیا ہے۔ تجاوزات کے نام پر سرکاری اداروں کی یہ مہم اگر واقعی قانون کی حکمرانی کا نمونہ ہوتی تو شاید لوگ اسے ایک دردناک مگر ضروری عمل سمجھ کر قبول بھی کر لیتے، لیکن زمینی حقیقت کچھ اور تاثر دیتی ہے۔ لوگ یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آخر قانون کا پہلا وار ہمیشہ انہی پر کیوں ہوتا ہے جن کے پاس طاقت، رسائی اور اثرورسوخ نہیں ہوتا؟ کیوں یہ تلوار ہمیشہ کمزور کے سر پر گرتی ہے جب کہ بڑے، بااثر اور سیاسی پشت پناہی رکھنے والے افراد کی غیرقانونی تعمیرات سالوں تک یوں ہی کھڑی رہتی ہیں جیسے قانون بھی ان کے سامنے دست بستہ کھڑا ہو۔
جموں کے ایک صحافی ‘ عرفاض ڈینگ اور کنگن میں ایک شہری کے گھر کی مسماری نے اس بحث کو مزید شدت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا، نہ سنوائی کا موقع ملا، نہ مہلت، اور ان کا گھر بھی انہی لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔
یہ معاملہ محض ایک فرد کا نہیں۔ کنگن میں حالیہ انہدامی کارروائی کی ویڈیوز نے عام لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک خوبصورت مکان، جس میں سامان موجود تھا، پردے تک لٹکے ہوئے تھے، یوں گرا دیا گیا جیسے انسانی زندگی کی کوئی وقعت ہی نہ ہو۔ اگر یہ واقعی غیرقانونی ڈھانچہ تھا، تو سوال یہ ہے کہ کیا کشمیر میں تعمیر شدہ تمام ہوٹل/ڈھانچے قانون کے عین مطابق ہیں؟ کیا یہ آخری خلاف ورزی تھی؟ یا پھر قانون کا پردہ صرف وہاں اٹھتا ہے جہاں کمزور کھڑے ہوں، اور جہاں طاقتور ہوں وہاں پردہ جوں کا توں رہتا ہے؟
سینئر وکلاء نے بھی انہدامی کارروائیوں کی اس سلیکٹو روش پر سخت اعتراض اٹھایا ہے۔ عدالتوں کی واضح ہدایات ہیں کہ اگر تجاوزات کے خلاف مہم چلائی جائے تو اس کا آغاز ان بڑے مگرمچھوں سے ہونا چاہیے جنہوں نے سرکاری اراضی کے بڑے حصے پر قبضہ کیا ہے۔ لاکھوں کنال زمین پر قبضے کے کیسز موجود ہیں، لیکن کارروائی ہمیشہ اسی جگہ ہوتی ہے جہاں لوگ خود کو بے سہارا محسوس کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تجاوزات غلط ہیں یا نہیں…یقینا غلط ہیں‘سوال یہ ہے کہ قانون کا ہاتھ سب پر یکساں کیوں نہیں پڑتا؟ وہ لوگ جو قانون کو محض کمزوروں کے خلاف استعمال ہوتے دیکھتے ہیں، وہ ریاست پر اعتماد کیسے قائم رکھیں؟
یہ بھی باعث حیرت ہے کہ ایک عوامی حکومت، جو اس وقت عملاً ریاست کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے، اس معاملے پر خاموش ہے۔ عمر عبداللہ کی قیادت میں تشکیل شدہ حکومت سے لوگوں کو توقع تھی کہ وہ واضح موقف اختیار کرے گی، یہ طے کرے گی کہ قانون کیسے نافذ ہو، کن اصولوں کے تحت ہو، اور کس طرح اس کا اطلاق شفاف ہو۔ مگر اب تک کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔ جب ایک صحافی کا گھر گرایا جاتا ہے، جب ایک عام شہری کی زندگی کا سرمایہ چند منٹوں میں ملبے میں تبدیل ہو جاتا ہے، جب کنگن میں خاندانوں کے گھر بکھر جاتے ہیں، اور حکومت صرف خاموشی اوڑھ کر بیٹھ جائے تو یہ خاموشی خود ایک سوال بن جاتی ہے…بہت بلند اور بہت فکر انگیز۔
پیپلز کانفرنس کے صدر‘سجاد لون نے اس ناانصافی کی نشاندہی کچھ ایسے انداز میں کی ہے جسے نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اکثریت قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے، تو پھر مسئلہ عوام میں نہیں بلکہ خود قانون میں ہے جو شاید وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ کشمیر اگر واقعی ایک عالمی سیاحتی مقام بننا چاہتا ہے تو اسے جدید انفراسٹرکچر، ہوٹلوں، سیاحتی سہولیات اور نئے تعمیراتی ضوابط کی ضرورت ہے۔ مگر پرانے، غیرلچکدار قوانین اور ان کا سلیکٹو نفاذ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ان کا سوال بجا ہے کہ ’’اگر نجی شعبے کو تعمیر سے روکا جائے، حکومت نوکریاں دے نہ سکے، اور شہریوں کو اپنی گزر بسر کے راستے بھی نہ دیے جائیں، تو لوگ آخر کیا کریں؟‘‘
یہ سوالات محض سیاسی بیان بازی نہیں، یہ عام لوگوں کی روزمرہ حقیقت ہیں۔ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا قانون واقعی سب کے لیے ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہ قانون کی حکمرانی نہیں، اختیار کی من مانی ہے جس میں سارا بوجھ صرف ان کندھوں پر ڈالا جاتا ہے جو پہلے ہی بھاری زندگی کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔
قانون کا احترام اسی وقت قائم رہتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر برابر ہو۔ اگر حکومت واقعی تجاوزات کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے ضروری ہے کہ ایک واضح، شفاف اور تحریری پالیسی وضع کی جائے۔ نوٹس کا حق، سماعت کا حق، مہلت کا حق اور اپیل کا حق…یہ ساری چیزیں قانونی تقاضے ہیں جنہیں کسی حالت میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بعد اگر کارروائی ہوتی ہے تو وہ اوپر سے نیچے ہونی چاہیے‘طاقتوروں، اثرورسوخ رکھنے والوں، بڑے قابض گروہوں اور سیاسی تحفظ یافتہ عناصر سے آغاز ہونا چاہیے۔ ایک کمزور فرد پر بلڈوزر چلانا آسان ہوتا ہے، مگر انصاف کبھی آسان راستہ نہیں چنتا۔
جموں و کشمیر کے لوگ اس وقت بس اتنا جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ریاست انہیں برابر کا شہری سمجھتی ہے یا نہیں۔ قانون صرف ان پر کیوں لاگو ہوتا ہے جن کے پاس کوئی سفارشی طاقت نہیں؟ اگر قانون واقعی وہی ہے جو کتابوں میں لکھا ہے تو پھر اس کا نفاذ بھی سب کے دروازوں تک جانا چاہیے۔ اگر بلڈوزر چلانا ناگزیر سمجھا جاتا ہے تو پھر یہ امیروں کے باغوں، سیاسی رہنماؤں کے فارم ہاؤسوں اور بیوروکریٹس کی غیرقانونی تعمیرات کے سامنے بھی اسی رفتار سے چلنا چاہیے جیسے غریب کی جھونپڑی کے سامنے چلتا ہے۔
یہ انصاف کا تقاضا ہے، قانون کی روح کا تقاضا ہے، اور ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد بھی یہی ہے کہ سب کو ایک ترازو میں تولا جائے۔ اگر یہ توازن قائم نہ کیا گیا تو یہ انہدامی مہمیں محض گھروں کو نہیں گرائیں گی بلکہ عوام کے دلوں میں موجود ریاستی اعتماد کو بھی تہہ و بالا کر دیں گی۔ اور ایک بار جب اعتماد گر جائے تو اسے دوبارہ تعمیر کرنا کسی ملبے اٹھانے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔





