نئی دہلی، 28 نومبر (یو این آئی) مرکزی جل شکتی وزیر سی آر پاٹل نے پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے بہتر آبی انتظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ پانی کے تحفظ کی تحریک زور پکڑ رہی ہے لیکن اسے متحرک اور کامیاب بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ عوامی شمولیت ناگزیر ہے ۔
مسٹر پاٹل نے جمعہ کو یہاں پانی کے تحفظ کے لیے منعقد اعلیٰ سطحی سجلم بھارت’ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے وسائل اور نیتی آیوگ کے اشتراک سے منعقد اس کانفرنس کا مقصد طویل المدت پانی کے تحفظ کی سمت میں مؤثر کام کرنا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی زندگی بھی دیتا ہے ، رکاوٹ بھی بنتا ہے اور ترقی بھی کرتا ہے لیکن آبی انتظام کے لیے ابھی تک منظم طریقے سے کام نہیں ہوا ہے ، اسی لیے پانی بحران کی وجہ بنتا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا، ”ہمارے پاس پانی کی فراوانی ہے ، مویشیوں کی بھی ملک میں اچھی خاصی تعداد ہے اور ہندوستان میں چار فیصد میٹھا پانی دستیاب ہے ، اس کے باوجود اگر پانی کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے تو اس کی وجہ یقیناً ہم خود ہیں۔”
مرکزی وزیر نے کہا کہ ڈیموں کے ذریعے پانی کا تحفظ ہوتا ہے لیکن اب ملک میں مزید ڈیم بنانے کی گنجائش نہیں ہے ۔ ملک میں ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ ڈیم ہیں اور مزید ڈیم بنانے کی اب کوئی مناسب صورت نہیں۔ ایک ڈیم بنانے میں 25 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں اور اس کے لیے 25 سال کا وقت بھی درکار ہوتا ہے ۔ پھر منصوبہ مکمل کرنے میں کئی مشکلات آتی ہیں، احتجاج ہوتے ہیں، لوگ زمین نہیں دیتے اور اگر زمین مل بھی جائے تو متاثرین کی بازآبادکاری پر بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے ۔ مسلسل مختلف رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر دن ندیوں کا پانی کم ہو رہا ہے اور پانی کی ضرورت بڑھ رہی ہے ، اس کے باوجود ہر شخص کو کافی پانی فراہم کرنا ضروری ہے ۔ پانی کے ذخیرے (واٹر ہارویسٹنگ) کو پانی کے بحران کا واحد حل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کے ذخیرے کو ایک بڑی تحریک بنانے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے عوام کو بیدار کرنا بھی اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی اپیل پر پانی کے ذخیرے کے لیے جو عوامی تحریک ابھر کر سامنے آئی ہے ، اسی کی بدولت ان کے وزارت کو اس میدان میں بڑی کامیابی ملی ہے ۔









