بنگلور، 28 نومبر (یو این آئی) کرناٹک کے نائب وزیر اعلی ڈی کے شیوکمار نے مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ وہ قیادت کی تبدیلی کا منتظر ہیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انہیں "کسی بات کی جلد بازی نہیں ہے ۔”
نائب وزیر اعلیٰ نے اس بات سے انکار کیا کہ ان کے ممبئی دورے میں کوئی سیاست کارفرما ہے ۔ انہوں نے اپنے حالیہ بیان کا بھی اعادہ کیا کہ "لفظ کی طاقت ہی دنیا کی طاقت ہے ۔”
ممبئی میں ایک خاندانی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شیوکمار نے واضح کیا کہ ان کے دورے کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا، "کوئی میٹنگ نہیں ہوئی ہے ، میں فیملی فنکشن کے لیے آیا ہوں، میں کسی میٹنگ کے لیے ممبئی کیوں آؤں گا؟ اگر میٹنگ ہوگی تو بنگلور یا دہلی میں ہوگی۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ تقریب کے فوراً بعد روانہ ہو جائیں گے ۔
جب بار بار یہ پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ریاستی کانگریس کے اندر قیادت کی منتقلی کے سلسلے میں کانگریس کے سینئر رہنماؤں راہل گاندھی یا ملک ارجن کھڑگے سے بات کی ہے ، مسٹر شیوکمار نے جواب دیا، "نہیں، نہیں، وہ میرے لیڈر ہیں، مجھے کوئی جلد بازی نہیں ہے ۔”
اپنے اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہ "لفظ کی طاقت ہی دنیا کی طاقت ہے "، نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ تبصرہ ان کے یوم آئین کے خطاب کے دوران اس ذمہ داری کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا تھا جو عوامی ابلاغ کے ساتھ آتی ہے ۔ انہوں نے کہا، "جج جو کچھ کہتے ہیں، جو کچھ سیاستدان کہتے ہیں، جو کچھ میں کہتا ہوں وہ بہت اہم ہے ۔ میں نے وکلاء سے کہا کہ آپ کو پیغام دیتے وقت محتاط رہنا چاہیے ۔ ہم جو کچھ بھی کہتے ہیں اس کی دنیا میں طاقت ہوتی ہے ۔”
مسٹر شیوکمار نے کہا کہ میڈیا بھی اپنے الفاظ کے انتخاب کے ذریعے عوام کے تاثر کی تشکیل کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا اینکر یا رپورٹر جو بھی کہتا ہے وہ اہم ہے اسی میں طاقت ہے ۔









