‘سرینگر/۲۶نومبر
بھارت نے بدھ کے روز پاکستان کے اس بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اتر پردیش کے ایودھیا میں رام مندر پر زعفرانی پرچم لہرانے پر اعتراض کیا گیا تھا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا’’ہم نے ان بیانات کو دیکھا ہے اور انہیں اس حقارت کے ساتھ مسترد کرتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کا فرقہ پرستی، جبر اور اپنی اقلیتوں کے منظم استحصال کا ریکارڈ گہرے داغوں سے بھرا ہوا ہے، پاکستان کو دوسروں کو نصیحت دینے کا کوئی اخلاقی اختیار نہیں۔ منافقانہ خطبات دینے کے بجائے پاکستان کیلئے بہتر ہوگا کہ وہ اپنا رخ اندر کی طرف موڑے اور اپنے بھیانک انسانی حقوق کے ریکارڈ پر توجہ دے‘‘۔
پاکستان نے زعفرانی پرچم لہرائے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے بھارت کی اقلیتوں پر دباؤ بڑھانے اور مسلم ورثے کو مٹانے کی کوشش قرار دیا تھا۔ اس کا حوالہ اس بات سے تھا کہ رام مندر۱۶ویں صدی کی بابری مسجد کے انہدام کی جگہ پر بنایا گیا ہے۔
یہ مسجد۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو دائیں بازو کے ہندو ہجوم نے گرا دی تھی۔
۲۰۱۹ میں سپریم کورٹ نے اس انہدام سے متعلق طویل عرصے سے جاری قانونی تنازع کو حل کرتے ہوئے ہندو فریقین کے حق میں فیصلہ سنایا۔
۲۰۲۰ میں، یعنی ایک سال بعد، وزیر اعظم نے رام مندر کی بنیاد رکھی، اور چار سال بعد ایک عظیم الشان تقریب میں اس کی ’’پرتشٹھا‘‘ کی صدارت کی۔
منگل کے روز انہوں نے۲۲ فٹ اونچا زعفرانی مذہبی پرچم لہرایا اور رسومات کی قیادت کی ‘ یہ رسومات پورے ملک سے آئے۱۰۸ پجاریوں نے معروف عالم گنیشور شاستری کی رہنمائی میں انجام دیں۔
بعد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’۵۰۰ سال پرانا عزم‘‘ پورا ہو گیا ہے۔ ’’ایودھیا اپنی تاریخ کے ایک اور عہد ساز واقعے کی گواہ ہے… ملک اور دنیا رام میں ڈوبا ہوا ہے۔‘‘
یہ دائیں زاویے والے سہ رخی زعفرانی پرچم پر سورج کا نشان ہے ‘ جو ابدی توانائی، الوہیت کی روشنی، فضیلت، بیداری اور رام سے منسوب دیگر خصوصیات کی علامت ہے۔
(ندائے مشرق ڈیسک )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔










