جون پور 26 نومبر(یواین آئی) اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اجے رائے نے بدھ کو کہا کہ حکومت کی جابرانہ پالیسیوں اور الیکشن کمیشن کی لاپرواہی کا خمیازہ ملازمین، اساتذہ اور بی ایل او (بوتھ لیول آفیسر) بھگت رہے ہیں۔
انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت اور الیکشن کمیشن پر الزام لگایا کہ ”ایس آئی آر کے نام پر پسماندہ ذاتوں کا ووٹ کاٹنے کا دباؤ بنایا جا رہا ہے ۔ اسی ظلم، دباؤ اورتناؤ کی وجہ سے اساتذہ خودکشی کرنے پر مجبورہورہے ہیں۔ یہ انتہائی شرمناک ہے ۔”
مسٹر اجے رائے آج جون پور میں مرحوم استاد کے ملہنی میں واقع رہائش گاہ پر پہنچے ۔ انہوں نے اہل خانہ سے ملاقات کر کے تعزیت کی اور ہر ممکن مدد کا بھروسہ دلایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے ، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور بی ایل او ڈیوٹی میں من مانے دباؤ کو فوراً روکا جائے ۔
واضح رہے کہ سرائے خواجہ تھانہ علاقے کے ملہنی گاؤں کے رہنے والے وپن یادو گونڈا ضلع میں اسسٹنٹ ٹیچر کے عہدے پر تعینات تھے اور ان کی ڈیوٹی ایس آئی آر کے لیے بی ایل او کے طور پر لگی ہوئی تھی۔ کل انہوں نے زہر کھا کر خودکشی کر لی اور الزام لگایا کہ وہاں کے ایس ڈی ایم، تحصیلدار اور بی ڈی او ان پر پسماندہ ذاتوں کا ووٹ کاٹنے کا دباؤ بنا رہے تھے ۔
گاؤں میں موجود مرحوم کے سالے پرتیک یادو نے بھی بتایا کہ بی ایل او ڈیوٹی کے نام پر زیادہ کام کے بوجھ اور دباؤ کی وجہ سے استاد بپن یادو کئی دنوں سے پریشان چل رہے تھے ۔ اس موقع پر کانگریس کے ضلعی صدر ڈاکٹر پرمود کے سنگھ، سٹی صدرعارف خان، ضلعی نائب صدر راکیش سنگھ "ڈبّو”، وکیش اپادھیائے "وِکّی”، پنکج سونکَر، شاہنواز منظور، شیویندر سنگھ، بلاک صدر اروند یادو سمیت کئی کانگریسی رہنما موجود تھے ۔









