بیجنگ، 25 نومبر (پی ٹی آئی): چین نے منگل کو اس الزام کی تردید کی کہ شنگھائی ایئرپورٹ پر اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والی ایک بھارتی خاتون کو ہراساں کیا گیا۔ چین کا کہنا ہے کہ اس کے امیگریشن حکام نے جو اقدامات کیے وہ قوانین اور ضابطوں کے مطابق تھے۔
پیما وانگجوم تھونگڈوک، جو برطانیہ میں مقیم بھارتی شہری ہیں، 21 نومبر کو لندن سے جاپان جا رہی تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تین گھنٹے کا طے شدہ لی اوور ایک صدمہ خیز تجربے میں بدل گیا جب چینی امیگریشن اہلکاروں نے ان کا پاسپورٹ صرف اس بنیاد پر ’’غیر معتبر‘‘ قرار دیا کہ اس میں ان کی جائے پیدائش اروناچل پردیش درج تھی۔
جب چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ سے تھونگڈوک کو درپیش اس تکلیف دہ صورتحال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ خاتون پر کسی بھی قسم کا لازم اقدامات، حراست یا ہراسگی نہیں کی گئی، جیسا کہ ان کا الزام ہے۔
ماؤ کے مطابق، ایئرلائن نے متعلقہ خاتون کو آرام کرنے کی جگہ، پانی اور کھانا بھی فراہم کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ چین کے بارڈر انسپکشن حکام نے پورے عمل کو قوانین اور ضابطوں کے مطابق انجام دیا اور متعلقہ شخص کے جائز حقوق اور مفادات کا مکمل تحفظ کیا۔‘‘
انہوں نے اروناچل پردیش پر چین کے دعوے کو بھی دہرایا، جسے چین زانگ نان یا ساؤتھ تبت کہتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’زانگ نان چین کا علاقہ ہے۔ چین نے کبھی بھی نام نہاد اروناچل پردیش کو تسلیم نہیں کیا جو بھارت نے غیر قانونی طور پر قائم کیا ہے۔‘‘
دہلی میں موجود ذرائع کے مطابق، بھارت نے اسی دن چین کو بیجنگ اور نئی دہلی—دونوں جگہ—ایک سخت ڈیمارش (باضابطہ سفارتی احتجاج) درج کرایا۔ بھارت نے واضح طور پر کہا کہ اروناچل پردیش ’’بلامنازع‘‘ بھارتی علاقہ ہے اور اس کے رہائشی مکمل حق رکھتے ہیں کہ وہ بھارتی پاسپورٹ رکھیں اور اس پر سفر کریں۔
ذرائع نے بتایا کہ بھارتی قونصل خانے نے شنگھائی میں یہ معاملہ مقامی سطح پر اٹھایا اور وہاں پھنس جانے والی مسافر کو ہر ممکن مدد فراہم کی۔
اروناچل پردیش کے وزیراعلیٰ پیما کھانڈو نے منگل کو کہا کہ وہ اس واقعے پر ’’گہرے صدمے‘‘ میں ہیں اور اسے ’’بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی اور بھارتی شہریوں کی عزتِ نفس پر حملہ‘‘ قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر اپنی متعدد پوسٹس میں تھونگڈوک نے دعویٰ کیا کہ شنگھائی ایئرپورٹ پر چینی امیگریشن حکام نے انہیں تقریباً 18 گھنٹے تک اس بنیاد پر روکے رکھا کہ ان کا پاسپورٹ ’’غیر معتبر‘‘ ہے کیونکہ ان کی جائے پیدائش اروناچل پردیش درج تھی۔
یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے ایک برطانوی دوست کے ذریعے شنگھائی میں بھارتی قونصل خانے سے رابطہ کرنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد قونصل خانے کے حکام نے انہیں دیر رات کی ایک پرواز پر سوار ہونے میں مدد کی۔






