ایک آسٹریلوی سینیٹر نے پارلیمنٹ میں برقع پہن کر آنے پر پابندی کا مطالبہ کیا جس کے بعد ملک میں سخت غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پولین ہینسن کے اس مطالبے کی ان کے ساتھی سینیٹرز نے نہ صرف ان پر کڑی تنقید کی بلکہ ان کی مذمت تک بھی کی۔ ایک سینیٹر نے تو ان پر ’کھلم کھلا نسل پرستی‘ کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے۔
سینیٹ میں کارروائی روک دی گئی کیونکہ انھوں نے اپنے برقعے کو اتارنے سے انکار کر دیا۔
وہ کوئینزلینڈ کی رہائشی ہیں اور ان کا امیگریشن مخالف ’ون نیشن پارٹی‘ سے تعلق ہے۔ انھوں نے عوامی مقامات پر برقعے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق بل پیش کیا تھا۔
یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جس کے لیے وہ طویل عرصے سے مہم چلا رہی ہیں۔ یہ دوسری بار ہے کہ وہ خود پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر آئیں اور پھر برقعے پر پابندی کا مطالبہ بھ دہرایا۔
انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس وجہ سے احتجاجاً یہ سب کیا کیونکہ سینیٹ نے ان کا بل مسترد کر دیا تھا۔
پیر کو دیگر قانون سازوں نے جب انھیں بل پیش نہ کرنے دیا تو پھر اس کے فوراً بعد ہی وہ سیاہ برقع پہن کر واپس پارلیمنٹ میں داخل آئیں۔
نیو ساؤتھ ویلز سے مسلم گرینز سے تعلق رکھنے والی سینیٹر مہرین فاروقی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک نسل پرستانہ سینیٹر ہیں، جو کھلم کھلا نسل پرستی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔‘
سینیٹرفاطمہ پیمین کا تعلق مغربی آسٹریلیا سے ہے جو آزادانہ طور پر پارلیمنٹ کی رکن ہیں نے اس کوشش کو ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔
وزیر خارجہ پینی وونگ، جو سینیٹ میں حکومت کی سربراہ ہیں، نے اسے ’ہتک آمیز‘ قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم اپنی ریاستوں کی نمائندگی کرتی ہیں، ہر مذہب اور ہر پس منظر والوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہمیں یہ سب مناسب طریقے سے کرنا چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ پولین ہینسن آسٹریلین سینیٹ کی رکنیت کے لائق نہیں ہیں اور ان کو برقعہ نہ اتارنے پر ان کی رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش کی۔
فیس بک پر ایک پوسٹ میں پولین ہینسن نے لکھا: ’اگر وہ نہیں چاہتے کہ میں اسے پہنوں تو برقعہ پر پابندی لگا دیں۔‘
انھوں نے پہلے سنہ 2017 میں پارلیمنٹ میں برقع پہنا تھا اور اس وقت بھی برقعہ پہننے پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ سنہ 2016 میں پولین ہینسن کو آسٹریلوی سینیٹ میں اپنی پہلی تقریر پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس میں انھوں نے کہا کہ ملک ’مسلمانوں سے بھر جانے کے خطرے سے دوچار ہے‘۔
انھوں نے 1996 میں اپنے ایک خطاب میں خبردار کیا تھا کہ آسٹریلیا میں ایشیا سے آباد ہونے والوں کی اکثریت ہو جائے گی۔






