صاحب کوئی ان صاحب … سنگھ صاحب‘ راج ناتھ سنگھ صاحب سے کہہ دے کہ آپ کیا چاہتے ہیں…آخر آپ ہمسایہ ملک کی جان لینے پر کیوں تلے ہوئے ہیں… وہ بھی آہستہ آہستہ اور آہستہ سے… اگر آپ واقعی میں اس کی جان کے دشمن بن گئے ہیں تو… تو ایک بار میں ہی قصہ تمام کر لیجئے … یوں تڑپا تڑپا کے مارنے سے تو بہتر ہے کہ آپ ایک ہی بار کیجئے وار اور… اور قصہ تمام۔ لیکن… لیکن سنگھ صاحب ہیں کہ آہستہ آہستہ لے رہے ہیں… ہمسایہ کی جان لے رہے ہیں‘ تڑپا تڑ پا کر لے رہے ہیں… اپنے بیانوں سے لے رہے ہیں‘ تیکھے بیانوں سے… ایسے بیان جو ہمسایہ ملک کی دھکتی رگ پر سیدھا ہاتھ رکھ دیتے ہیں… اللہ میاں کی قسم ہاتھ ہی نہیں رکھ دیتے ہیں بلکہ اسے دباتے بھی ہیں… اور اندازہ کیجئے اگر کوئی آپ کی دکھتی رگ کو دبائے تو… تو تکلیف کی شدت کا آپ خود اندازہ کیجئے…پہلے سنگھ صاحب مقبوضہ کشمیر کی بھارت میںواپسی کی بات کررہے تھے… یہ کہہ کر کررہے تھے کہ بھارت کو کرنا کچھ نہیں ہے کہ جو کچھ بھی کرنا ہے … اُس پار کے کشمیریوں کو کرنا ہے اور … اور ان کے بقول وہ کررہے ہیں یا انہوں نے ایسا کرنا شروع کردیا ہے… پاکستان سے آزادی کا مطالبہ کرکے کر دیا ہے… اور اب سنگھ صاحب نے سندھ پر نظریں جمائی ہیں… کہتے ہیں کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب نقشے اور سرحدیں تبدیل ہوجائیں گی… اور سندھ اور اس کے لوگ بھارت میں مدغم ہو جائیں گے ‘مل جائیں گے‘ ان کا بھارت دیش میں انضمام ہو جائیگا …ہم سوچتے ہیں کہ سندھ گیا ‘ مقبوضہ کشمیر گیا ‘ لاہور پر تو ویسے بھی ۷x۲۴ ہماری نظر رہتی ہیں … تو… تو پھر رہ کیا جائیگا… کہ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے ‘ اس سب سے ہم سب واقف ہیں… خیبر پختوں خواہ کی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں… ایسے میں سنگھ صاحب کے یہ بیان… یہ بیانا ت کسی کے بھی ہارٹ اٹیک کا موجب بن سکتے ہیں… ہمسایہ ملک کے بھی … لیکن… لیکن جیسا تیسا ہے تو یہ ہمارا ہمسایہ … اور ہمسایہ کے حق ‘ کچھ حقوق ہو تے ہیں… اور ہم سنگھ صاحب سے درخواست کریں گے کہ … کہ جناب ان حقوق کا پاس لحاظ رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ اور آہستہ کے بجائے ایک ہی بار میں کام تمام کیجئے… یوں تڑپا تڑپا نہیں کہ … کہ ہم ہمسایے جیسے کمینے نہیں بلکہ شریف ہیں۔ ہے نا؟




