سرینگر/۲۲نومبر
آرمی چیف جنرل اْپندر دویدی نے کہا ہے کہ آپریشن سندور ایک ’’مستند اور قابلِ اعتماد آرکسٹرا‘‘ تھا، جہاں ہر ’’فنکار‘‘ نے بیک وقت اور باہمی ہم آہنگی کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا۔ اسی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے کہ صرف ۲۲ منٹ میں بھارتی مسلح افواج نو دہشت گرد اہداف کو تباہ کرنے میں کامیاب ہوئیں۔
دہلی کے ایک مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فوجی کارروائی اس فور سائٹ یعنی مستقبل بینی کی مثال بھی تھی جو بدلتی ہوئی صورتِ حال کو پہلے ہی بھانپ لے۔
جنرل دویدی نے کہا’’یہ ردعمل اس لمحے میں تخلیق نہیں ہوا تھا بلکہ برسوں کی وہ مشق تھی جس میں ہم نے یہ تصور کیا تھا کہ کس طرح انٹیلی جنس، درستگی اور ٹیکنالوجی ایک ساتھ جمع ہو کر کارروائی میں ڈھل سکتے ہیں‘‘۔
بھارت نے ۷ مئی کی صبح یہ آپریشن شروع کیا اور پاکستان و پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) میں موجود متعدد دہشت گرد تنصیبات کو تباہ کر دیا۔
پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کی اوردونوں جوہری طاقتوں کے درمیان یہ فوجی تصادم تقریباً۸۸ گھنٹے جاری رہا، اور ۱۰ مئی کی شام باہمی سمجھوتے کے بعد یہ رکا۔
آرمی چیف نے کہا’’آپریشن سندور ایک ایسا قابلِ اعتماد آرکسٹرا تھا، جہاں ہر موسیقار نے بیک وقت اور اشتراکی کردار ادا کیا۔ اسی لیے ہم نے ۲۲منٹ میں نو دہشت گرد اہداف کو نیست و نابود کیا، اور ۸۰گھنٹے میں جنگ کو اختتام تک پہنچایا۔ اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ فیصلہ سازی کا کوئی وقت نہیں تھا…اگر ہم نے پہلے سے تصور نہ کیا ہوتا اور پوری ٹیم پر بھروسہ نہ کیا ہوتا تو یہ ممکن نہ تھا‘‘۔
نیو دہلی انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (این ڈی آئی ایم) میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل دویدی نے فارغ التحصیل طلبا کو مشورہ دیا کہ وہ ’’دانائی، انکساری اور طاقت‘‘ کے ساتھ قیادت کریں۔
جنرل دویدی نے کہا’’دنیا کبھی ساکت نہیں رہے گی۔ منڈیاں بدلیں گی، ٹیکنالوجی ارتقا کرتی رہے گی، اور آپ کی اپنی تمنائیں بھی وقت کے ساتھ بدلیں گی۔ لیکن انہی تغیرات میں آپ کی اصل طاقت پوشیدہ ہے ‘سیکھنے کی ہمت، ڈھلنے کی پھرتی، اور ایک مقصد کے ساتھ آگے بڑھنے کا وڑن۔ تبدیلی وہ نہیں جو ہمارے ساتھ ہوتی ہے، تبدیلی وہ ہے جو ہم خود بننے کا فیصلہ کرتے ہیں‘‘۔
فوج کے سربراہ کے خطاب کا موضوع تھا’تبدیلی کی راہ: واحد مستقل حقیقت‘۔انہوں نے عالمی حالات کے ارتقا، ٹیکنالوجی کے بگاڑ پیدا کرنے والے کردار اور مستقبل کی سمت سے متعلق امور پر روشنی ڈالی۔
آرمی چیف نے کہا’’۲۱ویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی طویل امن کی جگہ مسابقت، محاذ آرائی اور تنازعات کے ماحول نے لے لی۔ آج دنیا بھر میں۵۵ سے زائد تنازعات بھڑک رہے ہیں جن میں ۱۰۰ سے بھی زیادہ ممالک براہِ راست یا بالواسطہ ملوث ہیں، اور امن و جنگ کی سرحد دھندلا چکی ہے‘‘۔
جنرل دویدی نے کہا کہ جس طرح میدانِ جنگ بدل رہا ہے، اسی طرح منڈیاں بھی بدل رہی ہیں۔انہوں نے قومی ریاستوں، تحفظ پسندانہ پالیسیوں اور پابندیوں کے بڑھتے رجحان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جیو اکنامکس کو جنم دیا‘ایڈورڈ لٹواک کا پیش کردہ وہ فریم ورک جو ’’تجارتی زبان میں بیان کی جانے والی جنگ کی منطق‘‘ کو بیان کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج اس علم کی کتاب کے چھ ابواب روایتی ’’رین اینڈ مارٹن‘‘ کی انگریزی گرامر سے مختلف ہیں…تعاون، شراکت، بقائے باہمی، مسابقت، محاذ آرائی اور تصادم۔’’یہی چھ سی ہیں، جو ہمیں بھی جاننے ہیں اور آپ کو بھی اپنے پیشہ ورانہ مستقبل میں انہی سے سابقہ پڑے گا‘‘۔
آرمی چیف نے فوج کے ارتقا میں ٹیکنالوجی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا’’ٹیکنالوجی نے جنگ کو تبدیل کر دیا ہے‘کیچڑ بھرے مورچوں سے لے کر اسمارٹ نیٹ ورک تک، رائفلوں سے ڈرون تک، بوٹس سے بوٹس تک، اور کاروبار کی دنیا کو بھی شیمپو کے ساشے سے جیمینی تک بدل دیا ہے‘‘۔انہوں نے تبدیلی سے ہم آہنگ ہونے، اور جسے انہوں نے ’’رفتارِ مطابقت‘‘کہا، کی ضرورت پر زور دیا۔
فوج کے سربراہ نے کہا’’مواقع کو پہچان لینا ایک بات ہے، اس پر عمل کرنا دوسری بات۔ اور یہ عمل تب شروع ہوتا ہے جب آپ تبدیلی کو آنے سے پہلے قبول کر لیں۔ جب میں فوج میں شامل ہوا تو ہمارے ہاں کمپیوٹر نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ اور آج میں ایک ایسی فوج کی قیادت کر رہا ہوں جو ڈیٹا سائنس اور اے آئی کو جدید جنگی طریقوں میں استعمال کرتی ہے‘‘۔
آرمی چیف نے بتایا کہ فوج کی تبدیلی کا سفر اسٹرکچر میں چستی، تینوں افواج کے درمیان بڑھتی ہوئی مشترکہ کارروائی، جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال، انسانی وسائل کی اصلاحات اور اندرونی نظاموں کی بہتری جیسے اقدامات پر مشتمل ہے۔
جنرل دویدی نے کہا کہ آج وہ تقریباً۳ء۱ کروڑ فوجیوں، سابق فوجیوں اور اہلِ خانہ کی کمیونٹی کی قیادت کر رہے ہیں، جو بھارت کی آبادی کا ایک فیصد بنتا ہے۔انہوں نے کہا’’میں اپنے کارپوریٹ دوستوں سے کہتا ہوں کہ آپ چند سو ریزیومے سنبھالتے ہیں، اور ہم لاکھوں زندگیوں کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں‘وہ لوگ جو آپ کے ایک حکم پر گولیوں کی بوچھاڑ میں قدم رکھ دیتے ہیں‘‘۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بحرانوں میں مواقع تلاش کرنا ایک اہم صلاحیت ہے۔انہوں نے ۱۹۷۱ کی مثال دیتے ہوئے کہا’’جب مشرقی پاکستان میں بحران نے لاکھوں پناہ گزینوں کی لہر کو جنم دیا اور پورا خطہ عدم استحکام کا شکار تھا، بھارت نے اسی بحران کو ایک تاریخی موقع میں بدل کر برصغیر کی تقدیر بدل دی۔
(ندائے مشرق ڈیسک)
‘‘










