سرینگر/۲۱ نومبر
کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کی اْس تجویز کی سخت مخالف کی ہے جس میں پیک آور کے دوران استعمال ہونے والی بجلی پر بیس فیصد سرچارج عائد کرنے کا کہا گیا ہے۔
چیمبر نے اس اقدام کو ناانصافی، سزا کے مترادف اور نظامی ناکامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔
کے سی سی آئی کی نمائندگی اس کے سیکریٹری جنرل فیض احمد بکش نے کی، جو جے اینڈ کے اور لداخ کی مشترکہ بجلی ریگولیٹری کمیشن کے سامنے کے پی ڈی سی ایل کی پٹیشن کی سماعت میں شریک تھے۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین جے ای آر سی راج کمار چودھری نے کی جبکہ سیکریٹری کمیشن محمد اشرف بھی موجود رہے۔ چیمبر کی جانب سے مفصل اور اعداد و شمار پر مبنی پریزنٹیشن پیش کی گئی۔
کے سی سی آئی نے دلیل دی کہ یہ مجوزہ سرچارج دراصل صارفین کو اْن حالات کی سزا دینا ہے جو برسوں کے جمود‘بدانتظامی اور پاور سیکٹر کی دائمی خامیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ اس نے کہا کہ کے پی ڈی سی ایل کا یہ دعویٰ کہ ٹیرف میں اضافہ نہیں ہوا، گمراہ کن ہے، کیونکہ سرچارج اْن اوقات میں لگانے کی بات ہو رہی ہے جو گھریلو صارفین، کاروبار، اسپتال اور صنعتوں کیلئے لازمی استعمال کے اوقات ہیں۔ چونکہ ان اوقات میں بجلی استعمال کرنا ناگزیر ہے، اسے ’’پریمیئم‘‘ چارج کے طور پر لینا بنیادی طور پر غیر منصفانہ ہے۔
چیمبر نے تجارتی صارفین کے لیے ڈیمانڈ چارجز کی مکمل معافی کا مطالبہ بھی کیا، کیونکہ بار بار کی بجلی کٹوتیوں، آلات کے نقصان، پیداواری وقت کے ضیاع اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے سبب وہ شدید دباؤ میں ہیں۔ اس نے کہا کہ جب فراہمی خود غیر مستحکم، غیر یقینی اور اکثر دستیاب نہیں، تو کاروباری برادری مزید مالی بوجھ برداشت نہیں کرسکتی۔
اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کے سی سی آئی نے یہ بھی واضح کیا کہ کشمیر کا پاور ریلائیبلٹی لیول پورے بھارت میں سب سے کم ہے۔ مرکزی بجلی اتھارٹی کے ۲۰۲۲ کے اعداد و شمار کے مطابق کشمیر کا سسٹم ایوریج انٹرپشن ڈوریشن انڈیکس (ایس اے آئی ڈی آ ئی)۸۸۹ ہے جبکہ سسٹم ایوریج انٹرپشن فریکوئنسی انڈیکس (ایس اے آئی ایف آئی) ۹۵ء۷۲۳ہے۔ یہ اعداد و شمار قومی اوسط ۱۲ء۱۱۶؍اور۶۴ء۱۷۱ سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔ یہاں تک کہ جموں بھی بہتر کارکردگی دکھاتا ہے جہاں ایس اے آئی ڈی آ ئی۴۸۹؍اورایس اے آئی ایف آئی۴۴۲ہے۔
کے سی سی آئی نے کہا کہ یہ اعداد و شمار کشمیر کے دیرینہ اور گہرے پاور بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔
چیمبر نے کہا کہ اگرچہ جموں و کشمیر میں ۱۵ء۳۵۴۰ میگاواٹ کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت ہے، مگر سردیوں میں پیداوار ۹۰۰سے ۱۰۰۰ میگاواٹ تک گر جاتی ہے۔ ۲۰۱۹ کے بعد کوئی نیا پاور پلانٹ شامل نہیں کیا گیا جبکہ موجودہ پلانٹس کی پیداواری صلاحیت بھی پرانی تنصیبات اور تاخیر سے اپ گریڈیشن کی وجہ سے کم ہوئی ہے۔ نتیجتاً یو ٹی کو تقریباً۲۱۸۰ میگاواٹ بجلی باہر سے مہنگے نرخوں پر خریدنی پڑتی ہے، جس کا بوجھ ایماندار صارفین پر ہی پڑتا ہے۔
کے سی سی آئی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مکمل میٹرنگ ابھی تک نہیں ہوئی، جس کے سبب وسیع پیمانے پر بجلی چوری کا راستہ کھلا ہے اور اے ٹی اینڈ سی نقصانات تقریباً ۴۵ فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ چیمبر کے مطابق، ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے کے پی ڈی سی ایل ایک ایسا سرچارج لگانا چاہتا ہے جو بِل ادا کرنے والے صارفین کو ہی نشانہ بناتا ہے۔
چیمبر نے کہا کہ کشمیر بھر میں صارفین کو طے شدہ اور بلااشتعال لمبی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے، حتیٰ کہ کم نقصان والے فیڈرز پر بھی۔ صنعتوں کو پیداواری تاخیر اور مشینری کے نقصان کا سامنا ہے، جبکہ گھریلو صارفین سخت سردیوں میں مشکلات سے دوچار ہیں جب حرارت، پکوان اور روزمرہ کی ضروریات بجلی پر منحصر ہوتی ہیں۔ امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ بجلی نہ ہونے کے باعث مشکل میں پڑ جاتے ہیں، اور اسپتالوں کو ڈیزل جنریٹروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے خرچ بھی بڑھتا ہے اور خدمات کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے۔
کے سی سی آئی نے کمیشن کو یاد دلایا کہ بجلی صارفین کے حقوق سے متعلق۲۰۲۰کے قواعد کے تحت جے اینڈ کے کے باشندوں کو سروس کی کمی پر معاوضہ لینے کا قانونی حق حاصل ہے۔ رول۱۳ کے مطابق آٹومیٹک کمپنسیشن لازمی ہے۔ چیمبر نے کہا کہ یہ تشویش ناک بات ہے کہ ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بجائے کے پی ڈی سی ایل سرچارج نافذ کرنا چاہتا ہے، جبکہ سپلائی پہلے ہی شدید حد تک ناکام ہے۔
کے سی سی آئی نے کہا کہ ایسا سرچارج عائد کرنا شفافیت، انصاف اور ریگولیٹری احتساب کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس نے کمیشن سے درخواست کی کہ اس تجویز کو مسترد کیا جائے اور کے پی ڈی سی ایل کو ہدایت دی جائے کہ وہ نظام کی مضبوطی، نقصانات میں کمی، میٹرنگ کی تکمیل، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور زیر التوا پاور پروجیکٹس کی بحالی کو ترجیح دے۔ چیمبر نے کہا کہ صارفین پہلے ہی گرنے والی پیداواری صلاحیت، مہنگی بجلی درآمدات اور مسلسل ناکامیوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، انہیں مزید سزا نہ دی جائے۔
کے سی سی آئی نے صارفین کے حقوق کے تحفظ اور کاروباری برادری کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی صارفین سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ پاور سیکٹر کی گہری جڑی ہوئی عملی اور ساختی ناکامیوں کی قیمت چکائیں۔(مشرق خبر)










