جموں۲۱نومبر
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج پونچھ اور راجوری میں حالیہ قدرتی آفات اور ’آپریشن سندو‘ کے دوران پاکستانی شیلنگ سے متاثرہ کنبوں کیلئے نئے گھروں کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا۔
پونچھ میں۱۳۳؍ اور راجوری میں۳۸۸؍ایسے گھر، جو مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے، ہائی رینج رورل ڈیولپمنٹ سوسائٹی (ایچ آر ڈی ایس انڈیا) کی مدد سے مکمل طور پر مفت تعمیر کیے جائیں گے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومتِ ہند متاثرہ کنبوں کی مکمل بحالی کے لیے پْرعزم ہے اور پونچھ و راجوری کے ہر شہری کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہے۔
سنہانے کہا کہ اس سے پہلے جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایکس گریشیا ریلیف اور سرکاری نوکریاں فراہم کی گئیں۔ اسی طرح فلیش فلڈ اور پاکستانی شیلنگ سے متاثرہ کنبوں کو بھی معاوضہ دیا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر کاکہنا تھا کہ ’’سکیورٹی ریلیٹڈ ایکسپنڈیچر‘‘ (ایس آر ای) اور مرکزی اسکیموں کے تحت پونچھ کے دیگر متاثرہ گھر مالکان کو۱۰کروڑ روپے سے زائد ریلیف فراہم کی جا چکی ہے۔ ایل جی سنہا نے کہا کہ یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی خاندان اپنے حقوق اور بنیادی ضرورتوں سے محروم نہ رہے۔
سنہا نے بتایا کہ پونچھ میں ۱۳لواحقین کو سرکاری ملازمت دی گئی، ۱۴کو ایکس گریشیا ریلیف فراہم کی گئی، جبکہ ۱۶۰ کچّے اور ۴۲۵ پکّے گھروں کے مالکان کو دوبارہ گھر تعمیر کرنے کے لیے معاوضہ دیا گیا۔ ان کاکہنا تھا کہ راجوری میں ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران شہید ہوئے شہری کے لواحقین کو سرکاری نوکری دی گئی اور۴۶۵ متاثرہ گھروں کو گھر کی تعمیر کے لیے مالی امداد دی گئی۔ قدرتی آفات سے متاثرہ گھروں کے لیے بھی معاوضہ فراہم کیا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ضلعی انتظامیہ، پولیس، فوج،نیم فوجی دستے‘ ایمرجنسی رسپانڈرز، سول سوسائٹی اور رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے قدرتی آفت اور پاکستانی شیلنگ کے دوران قیمتی جانیں بچائیں اور متاثرہ کنبوں کی مدد کی۔ انہوں نے ایچ آر ڈی ایس انڈیا کی ٹیم کی بھی ستائش کی۔
ایل جی نے کہا کہ متاثرہ کنبوں کی سب سے بڑی ضرورت اپنے سر پر محفوظ چھت ہے۔ان کاکہنا تھا’’پہلے مرحلے میں پورے جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر۱۵۰۰ گھر تعمیر کیے جائیں گے، اور سنگِ بنیاد کے چھ ماہ بعد یہ مکانات مستحقین کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ یہ تین بیڈروم پر مشتمل پری فیبریکٹیڈ اسمارٹ ہاؤسز ہیں، جو متاثرہ کنبوں کو جلد اپنی زندگی دوبارہ سنبھالنے میں مدد دیں گے۔‘‘
ان گھروں میں گاؤشالہ جیسی سہولیات بھی شامل ہوں گی، جبکہ ایچ آر ڈی ایس انڈیا اگلے پانچ برس تک ان کی دیکھ بھال کرے گا۔ دوسرے مرحلے میں ان گھروں پر شمسی پینلز بھی نصب کیے جائیں گے۔ پونچھ اور راجوری میں ان گھروں کی تعمیر پر تقریباً ۵۱ کروڑ روپے خرچ ہوں گے، جو ایچ آر ڈی ایس انڈیا برداشت کرے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ صرف حقیقی مستحقین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گھروں کی تعداد پر کوئی حد مقرر نہیں ہے۔’’یہ منصوبہ خاص طور پر معاشی طور پر کمزور افراد کے لیے ہے۔ ان کی فلاح ہی سب سے بڑی خدمت ہے۔‘‘
سنہا نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں جموں و کشمیر، خصوصاً پونچھ اور راجوری میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جو تیز رفتار اور جامع ترقی ہوئی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔انہوں نے کہا’’پونچھ اور راجوری کے لوگ دہائیوں تک نظرانداز کیے گئے اور پڑوسی ملک کی پشت پناہی والی دہشت گردی کا شکار رہے۔ آج ترقی کی ایک نئی کرن اس تاریک دور اور جھوٹے وعدوں کی جگہ لے رہی ہے۔ آزادی کے بعد پہلی بار ان دو اضلاع کے لوگوں کو وہ ترقی مل رہی ہے جس کے وہ حقدار تھے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ ترقی کا یہ سلسلہ بغیر رکے جاری رہے گا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے پونچھ اور راجوری میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے کئے گئے اقدامات بھی بیان کیے۔
ایل جی نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں پونچھ میں۱۱۲۵ بنکرز مکمل کیے گئے، جبکہ ۵۶۹۳مزید بنکرز کی تجویز منظوری کے لیے بھیجی گئی ہے۔ راجوری میں ۲۹۲۳ بنکرز تعمیر کیے گئے ہیں، جس سے سرحدی آبادی کو بڑا ریلیف ملا ہے۔
سنہا نے بتایا کہ راجوری میں دہشت گردی سے متاثرہ ۱۹اور پونچھ میں ۹ لواحقین کو سرکاری نوکریاں فراہم کی گئیں۔ ایل جی نے ضلعی اور پولیس انتظامیہ کو ہدایت دی کہ باقی رہ جانے والے متاثرہ خاندانوں کی نشاندہی کرکے ان کے کیسز حکومت کو بھیجے جائیں۔ڈی آئی پی آر










