گزشتہ پانچ برسوں کی سڑک و ریل رابطے میں نمایاں بہتری نے اس خطے کی پوشیدہ صلاحیت کو سامنے لایا ہے
سمارٹ لاجسٹک انفراسٹرکچر اور بہتر لاجسٹک آپریشنز کے ذریعے یو ٹی کی ترقی کی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں
جموں/۲۰نومبر
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جمعرات کو کہا کہ جموں تیزی سے ایک ایسے تجارتی اور لاجسٹکس مرکز کے طور پر اْبھر رہا ہے جو لداخ اور وادی کشمیر کو ملک کی بڑی تجارتی راہداریوں کے ساتھ جوڑ رہا ہے۔
سنہانے کہا کہ بہت جلد جموں و کشمیر لاجسٹکس پالیسی ۲۰۲۵ کو جاری کیا جائے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر اِنڈین چیمبر آف کامرس (آئی سی سی) کے زیرِ اہتمام جموں ٹریڈ اینڈ لاجسٹکس کنکلیو ۲۰۲۵ سے خطاب کر رہے تھے۔
اپنے خطا ب میں سنہا نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں سڑک و ریل رابطے میں نمایاں بہتری نے اس خطے کی پوشیدہ صلاحیت کو سامنے لایا ہے۔
ایل جی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں قومی لاجسٹکس پالیسی نے لاجسٹک ایکو سسٹم میں اصلاحات کی رفتار بڑھائی ہے اور ڈیجیٹل انضمام، سکل ڈیولپمنٹ اور بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اسٹوریج، ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی، لاجسٹکس کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور آخری میل کنیکٹیویٹی نے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو بھی ترقی کے مرکزی دھارے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ای۔کامرس کی رسائی اور ریٹیل سیکٹر کی ترقی نے ویئر ہاؤسنگ اور لاجسٹکس کے شعبے کو مزید وسعت دی ہے۔ ’’جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری اس غیر معمولی تبدیلی کی زندہ مثال ہے۔‘‘
ایل جی سنہا نے کہا کہ سمارٹ لاجسٹک انفراسٹرکچر اور بہتر لاجسٹک آپریشنز کے ذریعے جموں و کشمیر کی ترقی کی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔
سنہا نے کہا کہ مضبوط اسٹوریج، لاجسٹکس اور ویئر ہاؤس سسٹم ریاستی معیشت کو خود انحصاری کی طرف لے جانے، پیداوار کنندگان کو صارفین سے جوڑنے اور تاجروں، صنعت کاروں، کسانوں، دستکاروں اور ایم ایس ایم ایز کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ جموں و کشمیر لاجسٹکس پالیسی ۲۰۲۵جلد پیش کی جائے گی۔ یہ پالیسی ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی، خشک بندرگاہوں اور ویئر ہاؤسنگ زونوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیتے ہوئے ایک جامع فریم ورک متعارف کرائے گی۔ لاجسٹکس سیکٹر کو صنعت کا درجہ بھی دیا جائے گا تاکہ وہ صنعتی پالیسی کے تمام فوائد حاصل کر سکے۔
سنہا نے کہا کہ پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت ۳۰۰۰ کروڑ روپے مالیت کے ۴۹ بڑے لاجسٹکس اور کنیکٹیویٹی پروجیکٹوں کی پہلے ہی میپنگ ہو چکی ہے، جس سے ریئل ٹائم کوآرڈی نیشن اور تیزی سے عمل درآمد ممکن ہو رہا ہے۔ یہ مربوط منصوبہ بندی صنعتی اسٹیٹس تک کنیکٹیویٹی بہتر بنانے، مال برداری کی آمد ورفت میں آسانی پیدا کرنے اور لاجسٹکس کے اخراجات و ٹرانزٹ وقت میں نمایاں کمی میں مدد کر رہی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید بتایا کہ وِجے پور جموں میں ملٹی موڈل لاجسٹک پارک (ایم ایم ایل پی) کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت بِلڈ۔ڈیولپمنٹ۔فائنانس۔آپریٹ۔ٹرانسفر طریقہ کار کے مطابق قائم کیا جائے گا۔ اس پارک میں جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی جن میں ان لینڈ کنٹینر ڈیپو، ویئر ہاؤسنگ، کولڈ اسٹوریج، ٹرک ٹرمنل اور کنٹینر فریٹ اسٹیشن شامل ہوں گے، جس کا مقصد تجارت اور لاجسٹکس کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔
کنکلیو میں کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وِکرم جیت سنگھ، چیئرمین آئی سی سی جموں چیپٹر راہل سہائے، ریجنل ڈائریکٹر دیبمالیا بنرجی، ٹرانسپورٹ کمشنر ویشیش پال مہاجن، تاجر نمائندگان، آئی سی سی ممبران، مختلف تجارتی تنظیموں کے نمائندے اور سینئر افسران شریک ہوئے۔ڈی آئی پی آر









