’موجودہ حالات میں کوئی بھی اپنے بچوں کو کشمیر سے باہر بھیجنا نہیں چاہتا‘ہر جگہ ہم پر شک کیا جا رہاہے ‘
سرینگر/۱۹نومبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ چند لوگوں کے دہشت گردانہ عمل نے پوری وادی کے رہائشیوں کو بدنام کر دیا ہے، اور اس طرح کی پروفائلنگ نے کشمیریوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ خطے سے باہر کے لوگوں کے ساتھ میل جول کم کر دیں۔
وہ ’وائٹ کالر‘ دہشت گردی ماڈیول ‘ جس میں ڈاکٹروں سمیت کئی افراد شامل تھے‘ کے تعلق سے بات کر رہے تھے جو دہلی کے لال قلعہ کے قریب خودکش حملے میں ملوث تھا۔
بدھ کوجنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں عمر عبداللہ نے کہا، ’’اس میں چند لوگ ذمہ دار ہیں، مگر ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جیسے ہم سب ذمہ دار ہوں۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ مرکز نے ۲۰۱۹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ’’سب کچھ رک جائے گا‘‘، لیکن جموں و کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے باوجود کچھ نہیں بدلا۔ان کاکہنا تھا’’موجودہ صورتحال کے بارے میں ہم کیا کہیں؟ اگر (دہشت گردانہ حملہ) دہلی میں نہیں ہو رہا تو یہاں (کشمیر) ہو رہا ہے،‘‘ انہوں نے کہا، یہ بھی کہ بم دھماکے اور شہری ہلاکتیں بند نہیں ہوئیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ یہ سب رکے۔ کشمیر نے بہت خونریزی دیکھی ہے…موجودہ حالات میں کوئی بھی اپنے بچوں کو کشمیر سے باہر بھیجنا نہیں چاہتا۔ ہر جگہ لوگ ہم سے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کشمیریوں کو بدنام کیا جا رہا ہے۔‘‘
عمرعبداللہ نے مزید کہا ’’دیکھیں دہلی میں کیا ہوا۔ ذمہ دار چند لوگ ہیں، لیکن ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جیسے ہم سب قصوروار ہوں۔ دہلی میں جموں و کشمیر نمبر والی گاڑی چلانا جرم سمجھا جاتا ہے۔ مجھے خود بھی سوچنا پڑتا ہے کہ کیا اپنی گاڑی لے کر نکلوں یا نہیں۔ پتا نہیں کون روک لے اور پوچھ بیٹھے کہ کہاں سے آئے ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ نوگام دھماکے سے متاثرہ خاندانوں سے مل سکیں۔انہوں نے کہا ’’کل میں پانچ جگہوں پر گیا تھا، اور آج میں دو مزید مقامات پر جا رہا ہوں۔ بالآخر، ہم چاہتے ہیں کہ یہ صورتحال کسی نہ کسی وقت رک جائے۔ جموں و کشمیر نے گزشتہ ۳۵۔۳۰ برسوں میں بہت خونریزی دیکھی ہے۔‘‘
معاشی ترقی کے بارے میں بات کرتے ہوئے،وزیر اعلیٰ نے مشن یْووا پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل کے تحت تقریباً ۳۰ہزار تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس منظور کی گئی ہیں، جبکہ بینکوں نے ان میں سے تقریباً ۹ ہزار کو منظوری دی ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ گزشتہ پانچ مہینوں میں نوجوان کاروباریوں کو تقریباً ۴۰۰ کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے ڈی پی آر منظوریوں اور بینکوں کی منظوری کے درمیان ایک اہم خلا کی نشاندہی کی۔ان کاکہنا تھا’’منظوری کی شرح تو زیادہ ہے، لیکن بینکوں کی جانب سے منظوری کم ہے۔ ہم اس خلا کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا، یہ بھی کہ حکومت کا حالیہ مہینوں کا تجربہ مثبت رہا ہے، اگرچہ بہتری کی گنجائش ابھی بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کارکردگی کا جائزہ لیتی رہے گی اور نوجوانوں کی مدد کے لیے خامیوں کو دور کرنے پر کام کرتی رہے گی۔
عمرعبداللہ کے والد، سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ، ۱۵ نومبر کو اس وقت تنازع میں گھر گئے تھے جب انہوں نے دہلی کے قریب خودکش دھماکے میں ۱۳؍ افراد کی ہلاکت کے بعد ’آپریشن سندور‘ پر بیان دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آخر ڈاکٹروں نے ’’یہ راستہ‘‘ کیوں چنا۔
فاروق عبداللہ نے کہا تھا، ’’جو ذمہ دار ہیں ان سے پوچھیں کہ ان ڈاکٹروں کو یہ راستہ کیوں اختیار کرنا پڑا؟ کیا وجہ تھی؟ اس سلسلے میں مکمل تحقیقات اور مطالعے کی ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ تازہ ترین دہشت گردانہ ماڈیول کے بے نقاب ہونے کے بعد ایک اور ’آپریشن سندور‘ جیسے واقعے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
’وائٹ کالر‘ دہشت گردی ماڈیول کی تحقیقات میں وسعت آ گئی ہے اور حکام فرید آباد کے ’الفلاح میڈیکل کالج‘ کی مالیات اور انتظامیہ کی جانچ کر رہے ہیں، جہاں وہ تمام مبینہ دہشت گرد ڈاکٹروں کے بھیس میں کام کرتے تھے، اس سے پہلے کہ یہ ماڈیول بے نقاب ہوا۔(ندائے مشرق خبر)









