سرینگر/۱۹نومبر
ایک امریکی رپورٹ’یو ایس چائنا اکنامک اینڈ سیکیورٹی ریویو کمیشن ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے فرانسیسی رافیل لڑاکا طیاروں کے خلاف ایک ’’گمراہ کن مہم‘‘ چلائی، جس میں ’’جعلی‘‘ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اپنے جے ۳۵ طیاروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق چین نے یہ مہم اس وقت شروع کی جب بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی میں ہونے والا فوجی تصادم ختم ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا’’مئی۲۰۲۵ کی بھارت،پاکستان سرحدی کشیدگی کے بعد چین نے رافیل طیاروں کی فروخت کو متاثر کرنے اور اپنے جے ۳۵طیاروں کو فروغ دینے کے لیے ایک گمراہ کن مہم چلائی، جس میں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے وہ اے آئی تصاویر پھیلائی گئیں جو مبینہ طور پر ان طیاروں کے ملبے کی تھیں جنہیں چینی ہتھیاروں نے تباہ کیا تھا۔‘‘
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چند ماہ قبل فرانسیسی فوجی اور انٹیلی جنس حکام نے بھی رافیل طیاروں کے خلاف ’’گمراہ کن مہم‘‘ کا نشانہ بننے کا دعویٰ کیا تھا۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ فوجی تصادم اس وقت شروع ہوا جب پاکستان نے بغیر کسی اشتعال کے بھارتی شہروں میں ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے آرمی بیسز کو نشانہ بنایا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے فرانسیسی انٹیلی جنس کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ چین کے سفارتخانوں میں تعینات دفاعی اتاشیوں نے رافیل کے خلاف اس مہم کی قیادت کی۔
بھارت۔پاکستان تنازع کے بعد کے دنوں میں چین نے اپنی فوجی ٹیکنالوجی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے ہتھیاروں نے سرحدی جھڑپوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔
امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے ’’جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اے آئی اور ویڈیو گیمز کی تصاویر پھیلائیں‘‘ اور انہیں رافیل طیاروں کے گرے ہوئے ملبے کے طور پر پیش کیا۔
رپورٹ مزید کہتی ہے کہ چین نے ’’پاک،بھارت تنازعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ہتھیاروں کی تشہیر کا موقع حاصل کیا‘‘۔
اگرچہ رافیل طیاروں کا سودا پہلے ہی جاری تھا، مگر رپورٹ کے مطابق چین نے انڈونیشیا کو یہ ڈیل روکنے پر آمادہ کر لیا، جس سے ’’خطے کے دیگر ممالک کی خریداریوں میں بھی چین کو جگہ بنانے میں مدد ملی‘‘۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاک،بھارت کشیدگی سے چند ماہ قبل چین اور پاکستان نے تین ہفتوں پر مشتمل انسدادِ دہشت گردی مشقیں کیں۔ نومبر اور دسمبر۲۰۲۴ میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون جاری رہا، اور فروری۲۰۲۵ میں چینی بحریہ نے پاکستان کی‘امن‘ مشقوں میں بھی حصہ لیا۔
’’چین نے مبینہ طور پر جون ۲۰۲۵ میں پاکستان کو جے ۴۰‘۳۵ فائٹر جیٹس‘جے کے ۵۰۰طیارے اور بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم فروخت کرنے کی پیشکش کی،‘‘ رپورٹ میں کہا گیا۔ اسی ماہ پاکستان نے اپنے ۲۰۲۶۔۲۰۲۵ کے دفاعی بجٹ میں ۲۰ فیصد اضافہ بھی کیا۔
بی جے پی نے بھی اس امریکی رپورٹ پر ردعمل دیا ہے، جس میں کہا گیا کہ چین نے رافیل کی فروخت کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔ بی جے پی رہنما امیت مالویہ نے بغیر کسی کا نام لیے یہ سوال اٹھایا کہ آخر کون لوگ تھے جنہوں نے ’’اس چینی بیانیے کو بڑھاوا دیا‘‘۔
انہوں نے پوسٹ میں پوچھا:’’بھارت،پاکستان تنازع کے دوران بھارتی فضائیہ نے واضح کر دیا تھا کہ اس کے تمام اثاثے محفوظ ہیں، اور یہ کہ درمیانِ تنازع آپریشنل تفصیلات بتانا قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہوگا… اس کے باوجود کون لوگ طیاروں کی ’نمبر گیم‘ کھیلتے رہے؟‘‘
۷ مئی کو بھارت نے پاہلگام دہشت گرد حملے میں ۲۶عام شہریوں کی ہلاکت کے جواب میں آپریشن سندور شروع کیا تھا، جس میں پاکستان اور پی او کے میں موجود دہشت گرد انفراسٹرکچر کو تباہ کر کے۱۰۰ سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
(ندائے مشرق ڈیسک )










