بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home تازہ تریں

بڈگام نے قلم دوات سے نئی تاریخ لکھ دی

۶۲ برسوں میں حکمران جماعت کی حلقے میں پہلی شکست ‘منتظر مہدی نے آغا محمود۴۵۰۰ ووٹوں سے شکست دی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-15
in تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
بڈگام نے قلم دوات سے نئی تاریخ لکھ دی
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

نگروٹہ حلقے سے بی جے پی کی دیویانی رانا کامیاب ‘ہرش دیو سنگھ کو۲۴ہزار سے زیادہ ووٹوں سے شکست دے دی

سرینگر/۱۴نومبر
جموں کشمیر کی سیاسی تاریخ میں جمعہ کا دن اُس وقت غیرمعمولی بن گیا جب بڈگام اسمبلی حلقے سے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے امیدوار آغا سید منتظر مہدی نے نیشنل کانفرنس (این سی) کو شکست دے کر ایک ایسا باب رقم کیا جس کا حوالہ آئندہ انتخابات تک دیا جاتا رہے گا۔ یہ وہی بڈگام نشست ہے جہاں نیشنل کانفرنس گزشتہ چھ دہائیوں سے سیاسی چمک دمک کے ساتھ بلا روک ٹوک کامیاب ہوتی آئی ہے لیکن۲۰۲۵کے ضمنی انتخابات نے اس روایت کو پہلی مرتبہ توڑ کر این سی کے سیاسی قلعے میں دراڑ ڈال دی۔
آغا منتظر مہدی نے نہ صرف این سی کے امیدوار آغا محمود کو۴ہزار۴۷۸ووٹوں کے واضح فرق سے مات دی بلکہ حلقے کی سیاسی فضا کو بھی نئے زاویے سے ترتیب دیا۔ پی ڈی پی امیدوار نے۲۱ہزار۵۷۶جب کہ این سی کے آغا محمود نے ۱۷ہزار۹۸ووٹ حاصل کیے ۔
بڈگام اسمبلی نشست۱۹۶۲سے انسدادِ تبدیلی کی علامت سمجھی جاتی تھی، کیونکہ یہاں نیشنل کانفرنس کے امیدوار شاذ و نادر ہی شکست دیکھتے تھے ۔ سب سے پہلی جیت آغا سید علی صفوی نے حاصل کی تھی، جس کے بعد اس نشست پر برسوں این سی کا یکطرفہ غلبہ برقرار رہا۔ صرف۱۹۷۲کا انتخاب ایسا تھا جب نیشنل کانفرنس نے حصہ ہی نہیں لیا، جس کا فائدہ کانگریس کو ملا۔
تاہم ۲۰۲۵میں رائے دہندگان نے پہلی بار اس روایت سے ہٹ کر ایسے فیصلے کو ترجیح دی جو این سی کے لیے پیغام بھی ہے اور انتباہ بھی۔ سیاسی ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی نہ صرف عوامی ناراضگی کا غماز ہے بلکہ بڈگام میں خاندانوں کے اندر اختلافات نے بھی انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈالا۔
این سی کے لیے سب سے بڑا دھچکا پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ کے رویے سے لگا، جنہوں نے نہ صرف انتخابی مہم سے کنارہ کشی اختیار کی بلکہ الیکشن کے روز اپنا ووٹ بھی کاسٹ نہیں کیا۔
سینئر تجزیہ کار سجاد حسن کے مطابق’’آغا روح اللہ اور نیشنل کانفرنس کے درمیان پیدا ہونے والی دوری نے حلقے میں وفادار ووٹ بینک کو تقسیم کر دیا۔ آغا روح اللہ کے حامیوں نے این سی کے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے سے گریز کیا، جس کا نقصان براہِ راست آغا محمود کو اٹھانا پڑا‘‘۔
یہ پہلو نتائج پر اتنا حاوی رہا کہ مضبوط انتخابی ڈھانچے کے باوجود این سی حلقے کے اندر وہ یکجہتی پیدا نہ کرسکی جو اسے کامیابی دلاتی۔ اس طرح ’آغا بمقابلہ آغا‘کی صورت میں یہ انتخاب دلچسپ اور غیرمتوقع رخ اختیار کر گیا۔
ضمنی انتخابات کو ریاستی سیاسی تناظر میں این سی حکومت کے ایک سالہ کارکردگی ٹیسٹ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا تھا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت پر اپوزیشن جماعتیں مسلسل یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ ترقیاتی منصوبوں میں سست رفتاری، زمینی سطح پر کمزور عمل درآمد اور عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔
پی ڈی پی سمیت اپوزیشن کا ماننا ہے کہ عوام این سی کے کھوکھلے وعدوں سے تنگ آ چکے ہیں اور یہ ضمنی انتخاب عوامی ردعمل کی ایک عملی تصویر ہے ۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ عمر عبداللہ نے۲۰۲۴ کے انتخابات جیتنے کے بعد گاندربل سیٹ برقرار رکھی اور بڈگام کی نشست سے استعفیٰ دیا، جس سے یہاں ضمنی انتخاب ضروری ہوا۔ عوامی رائے یہی کہتی ہے کہ وزیراعلیٰ کا فیصلہ حلقے کے ووٹروں کو پسند نہیں آیا اور انہیں یہ احساس ہوا کہ بڈگام حلقے کو سیاسی طور پر ثانوی حیثیت دے دی گئی۔
بڈگام اور نگروٹہ دونوں نشستوں پر ۱۱نومبر کو ووٹنگ ہوئی۔ نگروٹہ میں بی جے پی نے اپنی نشست برقرار رکھی، جبکہ بڈگام میں صورتحال یکسر مختلف رہی۔
اگرچہ پی ڈی پی اور این سی دونوں مضبوط جماعتیں سمجھی جاتی ہیں، لیکن بڈگام کے انتخابی منظرنامے میں ایک تیسری آواز،جبران ڈار،بھی موجود تھی، جنہوں نے قابل ذکر حد تک ووٹ حاصل کیے مگر مرکزی مقابلہ دو ہی امیدواروں کے درمیان محدود رہا۔
تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اس حلقے میں کوئی بھی تیسری سیاسی قوت عوامی رائے کو اپنی جانب موڑنے میں ناکام رہی، جس کا فائدہ براہِ راست پی ڈی پی کو ملا۔
آغا منتظر مہدی کی جیت کو سیاسی ماہرین پی ڈی پی کے لیے بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پی ڈی پی نے مسلسل نقصان دیکھا،پارٹی کے بڑے چہرے الگ ہوئے ، کارکن مایوس ہوئے اور عوامی اعتماد متزلزل ہوا۔ لیکن بڈگام کی جیت پارٹی کے لیے ایک نئی زندگی، نئے اعتماد اور نئی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔
یہ جیت پی ڈی پی کے لیے وسطی کشمیر میں ایک اہم واپسی ہے اور پارٹی اسے آئندہ انتخابات میں مضبوط بنیاد کے طور پر استعمال کر سکتی ہے ۔
نیشنل کانفرنس کی یہ شکست محض ایک انتخابی عدد نہیں بلکہ بڑی سیاسی حقیقت ہے ۔یہ ثابت کرتی ہے کہ روایتی ووٹ بینک، خاندانی اثرورسوخ اور تاریخی تسلسل اب کافی نہیں۔
بڈگام کے عوام نے اپنی ترجیحات کا رخ تبدیل کیا ہے ، اور این سی کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ووٹروں کے اندر سیاسی شعور، پارٹی کی کارکردگی اور مقامی مسائل پہلے سے کہیں زیادہ اثر رکھتے ہیں۔
بڈگام کی ضمنی انتخابی جیت نہ صرف پی ڈی پی کے لیے خوش آئند ہے بلکہ سیاسی نقشہ بدلنے کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے ۔این سی کو اب اپنی اندرونی صف بندی، قیادت کے درمیان ہم آہنگی اور عوامی رسائی پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔
پی ڈی پی کو اپنی اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط تنظیمی ڈھانچہ اور زمینی سطح پر کام بڑھانا ہوگا۔ بڈگام ضمنی انتخاب یہ ثابت کرتا ہے کہ کشمیر کی سیاست میں اب روایتی جیت کا تصور کمزور ہو چکا ہے ۔ عوام نہ صرف بیدار ہیں بلکہ وہ سیاسی جماعتوں سے کارکردگی، جواب دہی اور عملی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پی ڈی پی کی یہ جیت آنے والے انتخابی سال میں ایک بڑا اشارہ ہے کہ سیاسی فضا تبدیل ہو چکی ہے اور بڈگام اس تبدیلی کی علامت بن کر ابھرا ہے ۔
اس دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی امید وار دیویانی رانا نے نگروٹہ اسمبلی سیٹ پر شاندار کامیابی حاصل کی ہے جس کے ساتھ بی جے پی نے اس سیٹ پر اپنا قبضہ بر قرار رکھا ہے ۔
رانا نے اپنے مخالف امیدوار کو۲۴ہزار سے زیادہ ووٹوں سے شکست دے دی۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے جاری کردہ تازہ ترین انتخابی نتائج کے مطابق دیویانی رانا۴۲ہزار ایک سو۸۳ووٹوں کے ساتھ اس دوڑ میں سب سے آگے رہی جبکہ جموں اور کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے لیڈر ہرش دیو سنگھ نے۱۷ہزار۶۶۱ووٹ حاصل کیے ۔اس طرح بی جے پی امید وار نے زائد از۲۴ہزار ووٹوں سے جیت درج کی۔
نیشنل کانفرنس کی امیدر وار شمیمہ بیگم نے ۱۰ہزار۸سو ۳۴ووٹ حاصل کئے جبکہ آزاد امیدوار انیل شرما نے ۸سو ۳۷ووٹ حاصل کئے ہیں۔یہ سیٹ دویندر سنگھ رانا کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔
ادھر دیویانی رانا نے اپنی شاندار جیت پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور ووٹروں کا شکریہ ادا کیا۔
رانا نے کہا’’میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، قومی صدر جے پی نڈا، ترون چگ، رکن پارلیمان ڈاکٹر جتندر سنگھ، رکن پارلیمان جگل کشور،بی جے پی کے جموں و کشمیر یونٹ کے صدر ست شرما، لیڈر آف اپوزیشن سنیل شرما ودیگر لیڈروں کی شکر گذار ہوں‘‘۔
ان کا کہنا تھا ’’میں اپنے ووٹروں کی عمر بھر شکر گذار رہوں گی۔(یو این آئی)‘‘

 

متعلقہ

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

یہ بڈگام میں پی ڈی پی کی جیت سے زیادہ نیشنل کانفرنس کی ہار ہے

Next Post

ہاں یہ خودکشی ہی تھی… لیکن؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج
اہم ترین

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

2026-07-21
جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری
اہم ترین

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

2026-07-21
 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب
اہم ترین

 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب

2026-07-21
جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی
اہم ترین

جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی

2026-07-21
 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر
اہم ترین

 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر

2026-07-21
 موجودہ شکل میں سندھ   طاس معاہدہ دوبارہ نافذ   نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع
اہم ترین

 موجودہ شکل میں سندھ  طاس معاہدہ دوبارہ نافذ  نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع

2026-07-21
چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا  نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے
اہم ترین

چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے

2026-07-21
سے ۵۱اگست تک جموں صوبے میں شدید بارشوں کا امکان خراب موسم کے باعث پونچھ میں دوسرے روز بھی اسکول بند رہے
اہم ترین

 شدید بارش، آندھی اور بجلی گرنے کے خدشات کے باعث بجلی کے کھمبوں، تاروں اور  ٹرانسفارمروںسے دور رہنے کی اپیل 

2026-07-21
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

ہاں یہ خودکشی ہی تھی… لیکن؟

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.