بڈگام /۱۴نومبر
بڈگام سے ضمنی انتخاب جیتنے والے پی ڈی پی امیدوار آغا سید منتظر نے جمعے کو کہا کہ ضمنی انتخاب میں عوام کا فیصلہ حکمران جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) کے خلاف ایک احتجاج ہے، کیونکہ پارٹی اپنے سیاسی اور ترقیاتی وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔
منتظر نے جموں و کشمیر کے بڈگام اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب میں این سی امیدوار آغا سید محمود کو تقریباً۴۵۰۰ ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق، ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر منتظر نے۲۱ہزار۵۷۶ ووٹ حاصل کیے، جب کہ محمود کے حصے میں ۱۷ہزار۹۸ ووٹ آئے۔
منتظر نے وسطی کشمیر کے اس ضلع میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’یہ فیصلہ این سی کے خلاف ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے سیاسی اور ترقیاتی وعدے پورے نہیں کیے۔ یہ فیصلہ این سی کو مجبور کرے گا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرے‘‘۔
پی ڈی پی لیڈر نے کہا ’’یہ (کامیابی) پچاس برس کی محنت کا نتیجہ ہے، اور اب بڈگام کا ووٹ صحیح معنوں میں نمائندگی حاصل کرے گا۔ یہ این سی کے لیے ایک جواب ہے، کیونکہ ۲۰۲۴ میں انہوں نے بڈگام کے لوگوں کو نظرانداز کیا‘‘۔
منتظر نے مزید کہا کہ بڈگام کے عوام نے تبدیلی اور جوابدہی کے لیے ووٹ دیا ہے۔
اسی دوران، پی ڈی پی رہنما التجا مفتی نے پارٹی کی اس جیت کو عوام کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ووٹرز نے سمجھ لیا کہ حکمران این سی کے وعدے کھوکھلے ثابت ہوئے۔
التجا نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ’’میں بڈگام کے عوام کو مبارکباد دینا چاہتی ہوں… یہ بڈگام کے لوگوں کی جیت ہے۔ انہوں نے ایسی جماعت کو منتخب کیا ہے جو ان کی بہتری کے لیے کام کرے گی‘‘۔
موصوفہ نے کہا ’’ہم مسلسل لوگوں کو سمجھاتے رہے کہ انہوں نے این سی کو کئی مواقع دیے، یہاں تک کہ ایک وزیرِ اعلیٰ بھی چنا، لیکن وہ (این سی) اپنے وعدوں سے پھر گئے۔ منتظر عوام کے لیے کام کریں گے اور ان کی خدمت کریں گے‘‘۔
بڈگام میں یہ ضمنی انتخاب اس وقت ضروری ہوا جب وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے دونوں نشستوں پر کامیابی کے بعد بڈگام کی نشست خالی کر دی اور اپنے خاندانی حلقے گاندربل کو ترجیح دی۔
بی جے پی کے امیدوار آغا سید محسن۲ہزار۶۱۹ ووٹوں کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہے۔ضمنی انتخاب میں۲۶ء۱ لاکھ ووٹروں میں سے۰۱ء۵۰ فیصد نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ویب ڈیسک










