نئی دہلی، 13 نومبر (یو این آئی)
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے دہلی ریجنل آفس نے جے پرکاش ایسوسی ایٹس لمیٹڈ (جے اے ایل) کے سابق ایگزیکٹو چیئرمین و سی ای او اور جے پی انفراٹیک لمیٹڈ (جے آئی ایل) کے سابق چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر منوج گوڑ کو جے پی گروپ سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ معاملے میں گرفتار کیا ہے ۔
ای ڈی کے ایک افسر نے بتایا، ”جے پی گروپ کے تعلق سے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت درج انفورسمنٹ کیس انفارمیشن رپورٹ کی تفتیش کے دوران جمع کیے گئے ثبوتوں کے تفصیلی تجزیے کے بعد جمعرات کو یہ گرفتاری عمل میں لائی گئی۔”
ای ڈی نے دہلی اور اتر پردیش پولیس کی اکنامک آفنسز وِنگ (ای او ڈبلیو) کی جانب سے درج متعدد ایف آئی آرز کی بنیاد پر جے پی گروپ کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کی تھی۔
یہ معاملے جے پی وش ٹاؤن اور جے پی گرینز پروجیکٹس کے گھر خریداروں کی شکایات پر درج کیے گئے تھے ۔ ان شکایات میں کمپنی اور اس کے پروموٹرز پر فوجداری سازش، دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی کے الزامات عائد کیے گئے تھے ۔
شکایت کنندگان نے الزام لگایا تھا کہ رہائشی منصوبوں کی تعمیر اور تکمیل کے لیے ہزاروں مکان خریداروں سے جمع کردہ رقم کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے یہ ایک فراڈ اور وعدہ خلافی کا معاملہ بن گیا۔
ای ڈی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جے اے ایل اور جے آئی ایل نے گھر خریداروں سے جمع کی گئی تقریباً 14,599 کروڑ روپے (این سی ایل ٹی کے منظور شدہ دعووں کے مطابق) میں سے ایک بڑی رقم غیر تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کی اور اسے گروپ کی دیگر کمپنیوں اور ٹرسٹوں میں منتقل کر دیا۔ ان اداروں میں جے پی سیوا سنستھان (جے ایس ایس)، جے پی ہیلتھ کیئر لمیٹڈ (جے ایچ ایل) اور جے پی اسپورٹس انٹرنیشنل لمیٹڈ (جے ایس آئی ایل) شامل ہیں۔
تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ منوج گور، جے پی سیوا سنستھان کے منیجنگ ٹرسٹی ہیں، جنہیں اس رقم کا ایک حصہ موصول ہوا تھا۔










