اب تک کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس سازش کے کچھ ملزمان کا تعلق دبئی میں مقیم افراد سے ہے:رپورٹ
سرینگر/۱۳ نومبر
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ دہلی دھماکے کے ذمہ داروں کو ایسی سخت ترین سزا دی جائے گی جو دنیا کے لیے ایک واضح پیغام بنے گی کہ بھارت پر حملے کا خیال بھی کسی کے ذہن میں نہ آئے۔
امیت شاہ نے یہ بات گجرات کے ضلع مہسانہ کے بوریاوی گاؤں میں منعقدہ تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر شری موتی بھائی آر۔ چودھری ساگر سَینک اسکول اور ساگر آرگینک پلانٹ کا افتتاح کیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا’’جن لوگوں نے یہ بزدلانہ کارروائی انجام دی اور جو پسِ پردہ تھے، انہیں قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا اور سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ حکومتِ ہند اور وزارتِ داخلہ اس پر مکمل طور پر پرعزم ہیں‘‘۔
شاہ نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
شاہ نے کہا’’وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ عزم ہے کہ اس دہشت گردانہ حملے کے تمام ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے، اور یہ عزم ضرور پورا کیا جائے گا‘‘۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا’’دہلی دھماکے کے مجرموں کو دی جانے والی سزا دنیا بھر کو یہ پیغام دے گی کہ ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کا خواب دیکھنے والوں کا انجام عبرت ناک ہوگا‘‘۔
شاہ نے کہا کہ گزشتہ گیارہ برسوں میں وزیر اعظم مودی کی قیادت میں دنیا نے بھارت کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو تسلیم کیا ہے اور اب بھارت اس عالمی مہم کی قیادت کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ پیر کی شام لال قلعہ کے قریب کھڑی ایک کار میں دھماکہ ہوا تھا جس میں کم از کم ۱۳؍افراد جاں بحق اور ۲۰ زخمی ہوئے تھے۔
اب تک کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس سازش کے کچھ ملزمان کا تعلق دبئی میں مقیم افراد سے ہے۔ اس سے قبل شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بعض مشتبہ افراد ترکی اور پاکستان میں رہتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق یہ نیا سراغ اْس وقت سامنے آیا جب تحقیقاتی اداروں نے ڈاکٹر عادل احمد راتھر سے پوچھ گچھ کی، جنہیں سرینگر میں جیشِ محمد کی حمایت میں پوسٹر لگانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر عادل، اتر پردیش کے سہارنپور کے رہائشی ہیں۔ دورانِ تفتیش انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی مظفر راتھر دو ماہ قبل پاکستان گئے تھے اور وہاں سے دبئی پہنچے۔
تحقیقات کا رخ اب دبئی میں مقیم مظفر راتھر کی سرگرمیوں کی جانب مڑ گیا ہے، جو مبینہ طور پر جیشِ محمد سے براہِ راست رابطے میں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شبہ ہے کہ دبئی کا دورہ دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا بندوبست کرنے کے مقصد سے کیا گیا۔ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مظفر نے دبئی جانے سے قبل پاکستان میں کن افراد سے ملاقات کی۔
ڈاکٹر عادل احمد، جنہیں ۶ نومبر کو یوپی سے گرفتار کیا گیا، اس پیچیدہ دہشت گردانہ منصوبے کی گتھی سلجھانے میں اہم کردار ثابت ہوئے۔ ان سے یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ آیا ان کے ترکی میں موجود مشتبہ افراد سے کوئی رابطے تھے۔ وہ اننت ناگ کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں سینئر ڈاکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹرز اور مذہبی شخصیات کا ایک وسیع نیٹ ورک دہشت گرد تنظیموں کے لیے کام کر رہا تھا۔
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ فریدآباد میں کی گئی بروقت کارروائی نے ایک بڑی تباہی کو روکا‘ ممکنہ طور پر دہلی سمیت کئی شہروں میں بیک وقت دھماکوں کی منصوبہ بندی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، یہ نیٹ ورک ۶ دسمبر کو دہلی کے مختلف مقامات پر دھماکے کرنے کی تیاری کر رہا تھا… وہی دن جب ۱۹۹۲ میں ایودھیا میں بابری مسجد منہدم کی گئی تھی۔ گرفتار مشتبہ افراد کے مطابق، انہوں نے اسی تاریخ کو چننے کی وجہ ’بابری مسجد کے انہدام کا بدلہ لینا‘ بتائی۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
۔۔۔۔۔۔۔۔










