کولمبو، 13 نومبر (یو این آئی) سری لنکا کرکٹ (ایس ایل سی) نے مردوں کی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں اور معاون عملے کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ سکیورٹی وجوہات کے باعث پاکستان کا دورہ چھوڑتے ہیں تو ان کے خلاف رسمی کارروائی کی جائے گی۔ منگل کے روز اسلام آباد میں خودکش حملے کے بعد متعدد کھلاڑیوں اور عملے کے اراکین نے وطن واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ فی الحال سری لنکا کی ٹیم اسلام آباد میں مقیم ہے۔
بدھ کی رات تک دورے کو جاری رکھنے یا منسوخ کرنے پر مشاورت ہوتی رہی۔ جس میں کھلاڑیوں، ٹیم مینجمنٹ، ایس ایل سی حکام اور پاکستانی سکیورٹی افسران نے حصہ لیا۔ تاخیر اور انتظامی دشواریوں کے باعث سیریز کے باقی دو ون ڈے میچ ایک دن کے لیے ملتوی کر دیے گیے ہیں۔
پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے اعلان کیا کہ اب یہ میچ 14 اور 16 نومبر کو کھیلے جائیں گے، جو پہلے 13 اور 15 نومبر کو ہونے والے تھے۔ ایس ایل سی نے کہا کہ بورڈ نے کھلاڑیوں کو سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی ہے اور انہیں طے شدہ شیڈول کے مطابق میچ کھیلنے کی ہدایت دی ہے۔
بورڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ”اگر کوئی کھلاڑی یا معاون عملے کا رکن ایس ایل سی کی ہدایت کے باوجود وطن واپس جاتا ہے، تو اس کے خلاف باضابطہ انکوائری کی جائے گی اور انکوائری مکمل ہونے کے بعد مناسب فیصلہ لیا جائے گا۔”
پورے دن جاری بات چیت کے دوران ایس ایل سی نے کھلاڑیوں کی وطن واپسی کی درخواست مسترد کر دی۔ سری لنکا اب تک تین میں سے صرف ایک ون ڈے کھیل چکا ہے اور ٹیم کو پاکستان میں ایک ٹی ٹوئنٹی سہ فریقی سیریز بھی کھیلنی ہے، جس میں زمبابوے تیسری ٹیم ہے۔ اس کے باوجود کھلاڑیوں کے دباؤ کے باعث ایک اور میٹنگ بلانی پڑی۔
پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے سری لنکائی کھلاڑیوں سے ملاقات کی تاکہ انہیں سکیورٹی کا یقین دلایا جا سکے اور دورہ جاری رکھنے کی ترغیب دی جا سکے۔ اس سے قبل انہوں نے پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر فریڈ سریویرا سے ملاقات کی۔
پی سی بی کے مطابق سری لنکن ٹیم کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی کے انتظامات پر مکمل بریفینگ دی گئی، جس پر سریویرا نے اطمینان ظاہر کیا۔ یاد رہے کہ 2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملہ ہوا تھا، تاہم طویل وقفے کے بعد پاکستان کا دورہ دوبارہ شروع کرنے والی ابتدائی ٹیموں میں سری لنکا شامل تھی۔






