تمام امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے‘ہر زاویے سے تحقیقات کی جائیں گی‘ نتائج سامنے آئیں گے، عوام کو آگاہ کیا جائے گا:شاہ
وزیر داخلہ نے وزیر اعظم کو واقعہ پر بریفنگ دی/مودی کا ہلاکتوں پر رنج و غم کا اظہار ‘زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا
سرینگر/۱۰نومبر
قومی دارلخلافہ دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب ایک کار میں ہونے والے زوردار دھماکے میں ۸؍ افراد ہلاک اور ۲۴زخمی ہو گئے۔ دھماکہ آج شام ۶ بج کر ۵۲ منٹ پر لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے نزدیک ہوا، جس سے کار کے پرخچے اْڑ گئے اور آس پاس کھڑی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔
این ڈی ٹی وی نے دہلی پولیس کے ذرائع کے حوالے سے کہا’’یہ انتہائی طاقتور دھماکہ تھا‘‘۔
پولیس کمشنر ستیش گولچا نے صحافیوں کو بتایا ’’دھماکہ ایک سست رفتار گاڑی میں اْس وقت ہوا جب وہ لال قلعہ چوراہے کے اشارے پر رْکی ہوئی تھی۔ گاڑی میں سوار افراد بھی موجود تھے اور دھماکے سے قریبی نو گاڑیاں متاثر ہوئیں۔‘‘
دھماکہ جس کار میں ہوا وہ ہنڈائی آئی۲۰ تھی، جس کا اندراج ندیم نامی شخص کے نام سے ہریانہ میں ہوا تھا۔
قومی تحقیقاتی ادارہ (این آئی اے) اور قومی سلامتی دستہ (این ایس جی) نے تحقیقات سنبھال لی ہیں۔
ملک کی مختلف ریاستوں ‘جن میں ممبئی، کولکاتہ، جے پور، ہریانہ، پنجاب، حیدرآباد، اتر پردیش اور اتراکھنڈ ‘شامل ہیں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ بہار، جہاں کل اسمبلی کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ ہونی ہے، میں بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ کیرالہ میں بھی پولیس کو ریاست بھر میں حفاظتی انتظامات سخت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر لاشیں اور جسم کے کٹے ہوئے اعضا بکھرے ہوئے تھے جبکہ متعدد گاڑیاں جلی ہوئی حالت میں نظر آئیں۔
ڈپٹی چیف فائر افسر اے کے ملک کے مطابق، ’’ہم فوری طور پر موقع پر پہنچے، سات فائر یونٹس روانہ کیے گئے اور شام ۷ بج کر۲۹ منٹ پر آگ پر قابو پا لیا گیا۔‘‘
دھماکے کے فوراً بعد علاقے میں پولیس اور سلامتی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی۔ لال قلعہ کے اطراف سال بھر سیاحوں کی بڑی آمد رہتی ہے۔
ایمبولینسوں نے زخمیوں کو فوری طور پر لوک نایک جے پرکاش اسپتال (ایل این جے پی) پہنچایا، جہاں بیرونِ دروازہ اہلِ خانہ بڑی تعداد میں اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے جمع ہو گئے۔
یہ دھماکہ اْس دن ہوا جب دارالحکومت سے محض ۵۰ کلومیٹر دْور، ہریانہ کے فریدآباد میں دو ہزار نو سو کلو بارودی مواد برآمد کیا گیا تھا۔
سترہویں صدی میں مغل دور میں تعمیر شدہ لال قلعہ دہلی کے قدیم اور گنجان علاقے میں واقع ہے اور ایک معروف سیاحتی مقام ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کو وزیر داخلہ امیت شاہ نے دھماکے سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔ دہلی پولیس کمشنر، قومی تحقیقاتی ادارے اور خفیہ بیورو کے سربراہان صورتحال سے متعلق باقاعدہ رپورٹ دے رہے ہیں۔
امیت شاہ نے کہا ہے کہ واقعہ کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ ’’دھماکے کی اطلاع ملنے کے دس منٹ کے اندر دہلی کرائم برانچ اور اسپیشل برانچ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ اب این ایس جی، این آئی اے اور فرانزک ماہرین کی ٹیمیں موقع پر تحقیقات کر رہی ہیں۔ تمام قریبی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی حاصل کی جا رہی ہے۔‘‘
وزیر داخلہ نے مزید کہا، ’’ہم تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہر زاویے سے تحقیقات کی جائیں گی۔ جیسے ہی نتائج سامنے آئیں گے، عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔ میں خود جائے وقوعہ اور اسپتال کا دورہ کر رہا ہوں۔‘‘
امیت شاہ فی الحال ایل این جے پی اسپتال میں زخمیوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔
زخمی رکشہ ڈرائیور ذیشان نے بتایا، ’’میرے سامنے والی گاڑی مجھ سے دو فٹ کے فاصلے پر تھی۔ پتہ نہیں اْس میں بم تھا یا کچھ اور، اچانک زوردار دھماکہ ہوا۔‘‘ایک دوسرے عینی شاہد نے کہا، ’’میں نے اپنے مکان کی چھت سے ایک بڑی آگ کا شعلہ دیکھا، آواز اتنی شدید تھی کہ عمارتوں کے شیشے ہلنے لگے۔‘‘
ایک شخص نے بتایا، ’’میں گردوارے میں تھا جب اچانک ایک خوفناک آواز آئی۔ ابتدا میں سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیا ہوا، آواز بہت تیز تھی۔‘‘
وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے باہر ہونے والے دھماکے میں۱۳؍ افراد کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔
وزیر اعظم نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا، ’’دھماکے سے متاثرہ افراد کو حکام کی جانب سے ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ میں نے وزیر داخلہ امت شاہ جی اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔‘‘
رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعظم کو دھماکے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ہے، جبکہ دہلی پولیس کمشنر، قومی تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) اور خفیہ بیورو (آئی بی) کے سربراہان مسلسل وزارتِ داخلہ کو تازہ پیش رفت سے آگاہ کر رہے ہیں۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)









